پشاور ہائیکورٹ نے حکومت کو خواجہ سراوں کو تحفظ فراہم کرنیکی لءے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ہدایت کردی۔پشاور ہائیکورٹ میں پولیس کی جانب سے خواجہ سراوں کی مبینہ ہراسانی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس انعام اللہ خان نے درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ پولیس خواجہ سراوں کو تنگ کر رہی ہے۔جسٹس سید ارشد علی نے کہا کیا خواجہ سراوں سے متعلق کوئی قانون سازی ہو رہی ہے؟، اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ہم نے رپورٹ تیار کی ہے، خواجہ سراوں کیلئے شیلٹر ہومز، انڈونمنٹ فنڈ اور محکموں میں کوٹہ مقرر کرنا شامل ہے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے مزید بتایا کہ سینٹرل جیل میں خواجہ سرا کی بطور وارڈن تعیناتی کی گئی۔ اس موقع پر عدالت عالیہ نے کہا کہ فائل پر جواب موجود نہیں، آپ جواب جمع کرائیں۔جسٹس انعام اللہ خان نے کہا خواجہ سراوں پر تشدد یا قتل کیا جاتا ہے تو صوبے کی بدنامی ہوتی ہے، حکومت خواجہ سراوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے۔عدالت عالیہ نے حکم دیا کہ حکومت کمیٹیوں میں خواجہ سراوں کو نمائندگی دے، پولیس خواجہ سراوں کو ہراساں نہ کرے۔ عدالت عالیہ نے کہا کہ حکومت آئندہ سماعت تک اس حوالے سیجواب جمع کرائے۔







