خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے دور دراز، پہاڑی اور پسماندہ علاقوں میں مویشی پال افراد کو ان کی دہلیز پر ویٹرنری سہولیات فراہم کرنے کے لیے احساس بے زباں صحت گاڑی منصوبہ شروع کرنے کی تجویز تیار کر لی ہے۔مجوزہ منصوبے کی کل لاگت ایک ارب روپے رکھی گئی ہے، جبکہ رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں ابتدائی مرحلے کے لیے 4 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔منصوبے کے تحت خیبرپختونخوا بھر میں 50 موبائل ویٹرنری کلینک گاڑیاں فعال کی جائیں گی، جو موجودہ ویٹرنری ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کے ساتھ مربوط انداز میں کام کریں گی۔ان موبائل یونٹس کا مقصد دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں مویشی پال کسانوں کو بروقت اور معیاری ویٹرنری خدمات فراہم کرنا ہے، جہاں مستقل طبی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔موبائل ویٹرنری کلینکس کے ذریعے مویشی پال حضرات کو دی جانیوالی سہولیات میں جانوروں کا طبی معائنہ، جانوروں کے علاج اور ادویات کی فراہمی، حفاظتی ویکسینیشن، بیماریوں کی نگرانی، ڈی وارمنگ ، مصنوعی نسل کشی ، افزائشی خدمات، ویٹرنری توسیعی سرگرمیاں اور مویشی پال کسانوں کی تربیت اور آگاہی وغیرہ شامل ہیں۔ڈائریکٹر جنرل لائیوسٹاک خیبرپختونخوا ڈاکٹر اصل خان کے مطابق احساس بے زباں صحت گاڑی منصوبہ مویشی پال کسانوں کو جدید اور معیاری ویٹرنری سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، جس سے لائیوسٹاک کے شعبے کی پیداوار اور جانوروں کی صحت میں بہتری متوقع ہے۔







