وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضم اضلاع میں انتظامیہ کو آئندہ تین ماہ کے اندر سروس ڈیلیوری میں نمایاں بہتری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عرصے میں عوام کو خدمات کی فراہمی میں واضح اور عملی تبدیلی نظر آنی چاہیے۔ ضم اضلاع میں امن و امان، گورننس اور ترقیاتی پروگرام سے متعلق ایک اعلی سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلی نے شمالی وزیرستان میں ترقیاتی سرگرمیاں ایک ہفتے کے اندر بحال کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اس مقصد کے لیے درکار افسران اور اہلکار فوری طور پر فراہم کیے جائیں تاکہ ترقیاتی عمل میں مزید تاخیر نہ ہو۔ اجلاس میں وزیراعلی نے ضم اضلاع میں آٹ آف سکول بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کیلئے خصوصی اقدامات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں اس مقصد کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ضم اضلاع کے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی ہنگامی بنیادوں پر پوری کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ وزیراعلی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ضم اضلاع کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کا ازسرنو جائزہ لے کر ضرورت کے مطابق مزید ڈاکٹرز کی بھرتی یقینی بنائی جائے۔ اجلاس کے دوران وزیراعلی نے آپریشن ضربِ عضب کے متاثرین کو وفاق کے ذمے بقایا معاوضوں کی ادائیگی کے لیے متعلقہ وفاقی حکام کو مراسلے ارسال کرنے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ضم اضلاع فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہے ہیں، اس لیے جدید اسلحہ اور دیگر ضروری آلات و گیجٹس کی فراہمی میں ان اضلاع کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے عوام کی سہولت کے لیے اسٹیٹ آف دی آرٹ پولیس سہولت مراکز کے قیام پر پولیس حکام کو سراہتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ عوام کو معیاری اور بروقت خدمات کی فراہمی پر مزید توجہ دی جائے تاکہ ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہو۔ اجلاس کو ضم اضلاع میں سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 پر پیش رفت، گورننس اور امن و امان سے متعلق اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 کے تحت ضلع مہمند کی 70 اسکیموں کے لیے جاری فنڈز کا 99 فیصد، ضلع خیبر کی 100 اسکیموں کے لیے 98 فیصد، شمالی وزیرستان کی 82 اسکیموں کے لیے 93 فیصد جبکہ کرم اور اورکزئی کی 45 اسکیموں کے لیے 97.5 فیصد فنڈز خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح جنوبی وزیرستان کی 173 ترقیاتی اسکیموں پر بھی جاری فنڈز کا خاطر خواہ حصہ خرچ کیا جا چکا ہے، جبکہ ضلع باجوڑ کی 93 اسکیموں کے لیے جاری فنڈز کا 98 فیصد استعمال کیا جا چکا ہے۔ امن و امان اور پولیس اصلاحات سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضم اضلاع میں پولیس سہولت مراکز قائم کیے جا چکے ہیں جبکہ ڈسپیوٹ ریزولیوشن کمیٹیاں بھی فعال انداز میں کام کر رہی ہیں۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ضم اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر کی تعمیر اور موجودہ انفراسٹرکچر کی فورٹیفیکیشن کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔ اجلاس میں ضم اضلاع سے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، انسپکٹر جنرل آف پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔







