خیبرپختونخوا پر قرض کا حجم 800 ارب تک پہنچ گیا

صوبے پر مجموعی قرضوں میں گزشتہ 12 سال کے دوران تاریخی اور ہوش ربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد صوبے پر واجب الادا قرضوں کا حجم 97 ارب روپے سے چھلانگ لگا کر 800 ارب روپے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا کی دستاویزی رپورٹ کے مطابق سال 2013 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے سے پہلے صوبہ مجموعی طور پر صرف 97 ارب روپے کا مقروض تھا اور اس وقت معیشت پر سود یا اقساط کا کوئی بڑا بوجھ نہیں تھا۔ تاہم گزشتہ بارہ سال کے دوران مسلسل پی ٹی آئی کے مختلف ادوارِ حکومت میں بیرونی اداروں سے لیے گئے فنڈز کے باعث یہ گراف تیزی سے اوپر گیا۔رپورٹ کے مطابق سال 2023 تک صوبائی قرضوں کی مالیت 530 ارب روپے ریکارڈ کی گئی تھی جو اگلے ہی سال یعنی جون 2024 تک مزید بڑھ کر 680 ارب روپے تک جا پہنچی۔ حالیہ سال 2025 کے اختتام تک یہ بیرونی و ملکی قرضہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی قریبا 750 سے 800 ارب روپے کے درمیان جا چکا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ پشاور بی آر ٹی، سوات موٹروے، پن بجلی کے منصوبوں اور ورلڈ بینک و ایشیائی ترقیاتی بینک سے ڈالرز میں لیے گئے بھاری قرضے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں ڈالر کی قیمت میں ہونے والے بے پناہ اضافے اور روپے کی بے قدری نے بھی صوبائی حکومت کی طرف سے نیا قرض لیے بغیر ہی روپوں کی شکل میں اس حجم کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، جس کے باعث اب کے پی حکومت کو اپنے سالانہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ ان پرانے قرضوں کا سود اور قسطیں چکانے پر خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed