پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی گاڑیوں کے ریکارڈ پر مشتمل ایک دستاویز میں انکشاف ہوا ہے، کہ مختلف ہائیڈرو پاور اور سولرائزیشن منصوبوں کے لیے خریدی گئی کروڑوں روپے مالیت کی 22 لگژری گاڑیاں بعد ازاں وزیراعلی سیکرٹریٹ، محکمہ انتظامیہ اور محکمہ توانائی و برقیات کے زیر استعمال آ گئی ہیں۔دستاویز کے مطابق پیڈو کی کروڑوں مالیت کی 9گاڑیاں محکمہ انتظامیہ، 8گاڑیاں محکمہ توانائی و برقیات جبکہ 5گاڑیاں وزیر اعلی سیکرٹریٹ کے عملے کے زیر استعمال ہیں ۔لوائی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ چترال کے فنڈز سے خریدی گئی 2018 ماڈل کی ٹویوٹا لینڈ کروزر پراڈو وزیراعلی سیکرٹریٹ، اسی منصوبے سے خریدی گئی 2 ٹویوٹا فارچیونر گاڑیاں وزیراعلی سیکرٹریٹ اور انرجی اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ کے استعمال میں ہونے کا ریکارڈ موجود ہے۔دستاویز کے مطابق کوٹو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ دیر کیلئے 2015 میں خریدی گئی 4 ٹویوٹا فارچیونر گاڑیاں محکمہ انتظامیہ 2015میں ہی لے گیا، اسی طرح درال خوڑ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سوات کیلئے خریدی گئی، ٹویوٹا پراڈو بھی محکمہ انتظامیہ کے پاس ہیں۔مچئی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مردان کی ڈائی ہاٹسو ٹیریوس ایک اعلی سرکاری عہدیدار کے زیر استعمال ہے، دستاویز کے مطابق شمسی توانائی کے منصوبوں اور ضم شدہ اضلاع کے بعض منصوبوں سے خریدی گئی کیا سپورٹیج، ٹویوٹا رش، ٹویوٹا فارچیونر اور دیگر گاڑیاں بھی وزیراعلی سیکرٹریٹ، انرجی اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ انتظامیہ کے زیر استعمال دکھائی گئی ہیں۔دستاویز منظرعام پر آنے کے بعد ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص وسائل، سرکاری اثاثوں کے استعمال اور انتظامی شفافیت کے حوالے سے مختلف سوالات سامنے آ رہے ہیں۔ تاہم 22 لگژری گاڑیاں بیوروکریسی کے زیر استعمال آنے کے اس معاملے پر متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ مقف سامنے آنا ابھی باقی ہے۔







