بلوچستان کے ضلع لورالائی سے تعلق رکھنے والے کاشتکار محمد حسن ترین نے پاکستان کیلئے تاریخی اعزاز حاصل کرتے ہوئے اپنے قائم کردہ پریمیئم پاکستانی زیتون کے تیل کے برانڈ کے ساتھ لندن انٹرنیشنل اولیو آئل مقابلے میں گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے تقریبا 1300 معروف اولیو آئل برانڈز کے درمیان ہونے والے اس سخت اور اعلی معیار کے بین الاقوامی مقابلے میں پاکستانی برانڈ کی کامیابی کو ملکی زرعی شعبے کیلئے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کامیابی کے بعد پاکستان ان ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جو عالمی معیار کے مطابق ایکسٹرا ورجن اولیو آئل تیار کرنے اور بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق لندن انٹرنیشنل اولیو آئل مقابلہ دنیا کے معتبر ترین مقابلوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں زیتون کے تیل کا معیار، ذائقہ، خوشبو، خالص پن اور پیداواری معیار انتہائی سخت بین الاقوامی اصولوں کے مطابق جانچا جاتا ہے۔ ایسے مقابلے میں گولڈ میڈل حاصل کرنا کسی بھی برانڈ کے لیے عالمی سطح پر اعتماد ار معیار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اس تاریخی کامیابی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے محمد حسن ترین نے کہا کہ یہ اعزاز صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ پورے پاکستان، خصوصا ملک میں تیزی سے فروغ پانے والی زیتون کی صنعت کی کامیابی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موسم، زمین اور آب و ہوا اعلی معیار کے زیتون کی پیداوار کے لیے نہایت موزوں ہیں، اور اگر جدید کاشتکاری، پروسیسنگ اور برآمدات پر مزید توجہ دی جائے تو پاکستان عالمی زیتون کی منڈی میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کامیابی سے پاکستانی زیتون کے تیل پر عالمی خریداروں کا اعتماد مزید بڑھے گا، جس کے نتیجے میں ملکی برآمدات میں اضافہ، کسانوں کی آمدنی میں بہتری اور زرعی معیشت کو تقویت ملے گی۔ ان کے مطابق یہ اعزاز ملک بھر کے زیتون کے کاشتکاروں کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا پیغام ہے کہ وہ عالمی معیار کی پیداوار کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان، بالخصوص بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں زیتون کی کاشت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حکومتی اور نجی شعبے کی مشترکہ کوششوں سے لاکھوں زیتون کے پودے لگائے جا چکے ہیں، جس کے مثبت نتائج اب عالمی سطح پر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔محمد حسن ترین کی یہ کامیابی نہ صرف پاکستانی زیتون کے شعبے کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ پاکستان زرعی مصنوعات کے شعبے میں عالمی معیار حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔







