آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کل تہران میں ادا کی جائیگی

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور انکے اہل خانہ کی آخری رسومات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ مرکزی نمازِ جنازہ کل ( اتوار کو )تہران میں ادا کی جائے گی۔ ایرانی حکام نے سات روزہ سوگ اور آخری رسومات کے سلسلے میں ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے، جبکہ مختلف تقریبات نو جولائی تک جاری رہیں گی۔ایرانی حکام کے مطابق ابتدائی تعزیتی تقریب تہران کے بڑے مذہبی و ثقافتی مرکز امام خمینی مصلی میں منعقد ہوئی، جہاں ہزاروں سوگواروں نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے تابوت کا آخری دیدار کیا ۔تقریب میں مختلف ممالک سے آئے ہوئے وفود نے بھی شرکت کی، مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی اور ایرانی اعلی قیادت سے اظہارِ تعزیت کیا۔حکام کا کہنا ہے کہ گرینڈ مصلی میں عوامی الوداع کی دو روزہ تقریب منعقد کی جائے گی۔ ہفتہ کی صبح چھ بجے عوام کیلئے دروازے کھولے گئے جو آج پانچ جولائی کی رات آٹھ بجے تک کھلے رہیں گے۔مرکزی نمازِ جنازہ آج (اتوار )کی صبح ادا کی جائے گی، جبکہ جنازے کا جلوس مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے شروع ہوگا اور شام تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ایرانی حکام کے مطابق آخری رسومات کا سلسلہ تہران کے بعد دیگر شہروں تک بھی پھیلایا جائے گا۔ کل چھ جولائی کو تہران میں جنازے کا جلوس کا شروع ہو گا، یہ جلوس مقامی وقت کے مطابق صبح چھ شروع ہوگا۔ منتظمین نے دارالحکومت میں پھیلے ہوئے ایک راستے کا انتخاب کیا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ متوقع ہجوم کے لیے کوئی ایک سڑک کافی نہیں ہوگی۔ حکام کو امید ہے کہ یہ تقریب شام تک اختتام پذیر ہو جائے گی۔سات جولائی کی صبح قم میں جنازے کا جلوس برآمد ہوگا، جہاں جمکران مسجد میں ایک سینئر عالمِ دین نمازِ جنازہ کی امامت کریں گے۔عراق میں ایران کے ثقافتی اتاشی غلام رضا اباذری کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی سات جولائی کی شام نجف پہنچے گا، جبکہ آٹھ جولائی کو نجف میں صبح چھ بجے اور کربلا میں سہ پہر چار بجے جنازے کے جلوس نکالے جائیں گے۔ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین نو جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں حضرت امام رضا کے مزار کے احاطے میں کی جائے گی، جہاں100کے قریب ممالک کے نمائندوں سمیت ڈیڑھ سے دو کروڑ تک سوگواروں کی شرکت متوقع ہے۔ ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کیلئے آنے والوں کو ملک بھر میں 5000 اسکول اور تقریبا 40 سے 50 ہزار کلاس رومزکھول دئیے گئے ہیں۔حکومتِ ایران نے آخری رسومات کے پیشِ نظر سپاہِ پاسداران، سیکیورٹی اداروں اور دیگر سرکاری محکموں کو مکمل طور پر متحرک کر دیا ہے۔ملک بھر میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ چھ جولائی کو عام تعطیل اور آٹھ جولائی کو یومِ سوگ منانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔خامنہ ای کے علاوہ، ان کی صاحبزادی بشری حسینی خامنہ ای، بہو زہرا حداد عادل (مجتبی خامنہ ای کی اہلیہ)، داماد مصباح الہدی باقری اور نواسی زہرا محمدی کے تابوت بھی سوگواروں کے سامنے رکھے گئے ہیں۔دریں اثنا ایران کے دارالحکومت تہران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کے موقع پر ہزاروں افراد گرینڈ مصلی مذہبی کمپلیکس میں جمع ہوئے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نمازِ جنازہ کے شرکا نے ہاتھوں میں سرخ جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے جو انتقام کی علامت سمجھے جاتے ہیں جبکہ مجمع نے امریکا مردہ باد اور انتقام، انتقام کے نعرے بھی بلند کیے۔الجزیرہ کے مطابق جنازے کی آمد سے قبل بڑی تعداد میں سوگوار خواتین کو بھی احاطے میں موجود دیکھا گیا۔اس سے قبل تہران کے مختلف میٹرو اسٹیشنز پر بھی لوگوں کی بڑی تعداد جمع دیکھی گئی جو میٹرو سروس کھلنے کا انتظار کر رہی تھی تاکہ نمازِ جنازہ میں شرکت کی جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed