صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے ٹی ایم اے چارسدہ کا دورہ کرکے ٹی ایم اے کی کارکردگی، مالی معاملات اور عوامی شکایات کا جائزہ لیا۔ صوبائی حکومت بلدیاتی اداروں کو مالی طور پر مستحکم بنانے اور ان میں موجود خامیوں کو دور کرنے کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کے باعث جائیداد کے کاروبار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت نے انتقالات پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے جبکہ صوبائی حکومت نے اپنے حصے کا ٹیکس 6 فیصد سے کم کرکے 3 فیصد کر دیا ہے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔اس موقع پر سیکرٹری بلدیات بھی ان کے ہمراہ موجو د تھے ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ٹی ایم اے کے ریٹائرڈ ملازمین نے پنشن کے عدم ادائیگی کے حوالے سے شکایت کی تھی جس پر وزیر اعلی کی ہدایت پر آج ٹی ایم اے چارسدہ کا دورہ کیا ہے ۔ا س موقع پر انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ سال صوبائی حکومت نے ٹی ایم ایز کو مجموعی طور پر 4 ارب روپے کی گرانٹ فراہم کیا۔ بلدیاتی اداروں کے اثاثوں کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کے لیے ای آکشن کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت 800 میں سے تقریبا 250 اثاثوں کی نیلامی مکمل کی جا چکی ہے۔ ان اثاثوں کی ای آکشن سے آمدن میں 86 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے جبکہ تمام 800 اثاثوں کی نیلامی مکمل ہونے پر مزید ڈھائی ارب روپے اضافی آمدن متوقع ہے۔مینا خان آفریدی نے کہا کہ حکومت تمام ٹی ایم ایز کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلدیاتی اداروں کے اندر موجود لوپ ہولز، کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے اور کرپٹ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ایک سیٹ پر دو سال سے زائد عرصہ تعینات رہنے والے ملازمین کے تبادلے کیے جائیں گے تاکہ اداروں میں شفافیت اور احتساب کو فروغ دیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی ایک ہی جگہ پر جڑیں جمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔صوبائی وزیر نے خبردار کیا کہ پلازوں اور کمرشل عمارتوں کی تعمیر میں بلدیاتی بائے لاز پر عمل درآمد یقینی نہ بنانے والے افسران اور اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی اور اس سلسلے میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی







