ٹک ٹاک پر پابندی’ پشاور ہائیکورٹ نے جواب طلب کرلیا

پشاور ہائیکورٹ میں ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی سے جواب طلب کر لیا۔درخواست کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر بابر شہزاد عمران نے موقف اختیار کیا کہ ٹک ٹاک پر بے ہودہ اور غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی ہیں، جس کے باعث معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)سے فائر وال سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی۔پی ٹی اے کے وکیل جہانزیب محسود نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مطلوبہ رپورٹ جمع کرا دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھم کے تحت صارف جب کسی مخصوص نوعیت کا مواد دیکھتا ہے تو بعد میں اسی نوعیت کی مزید ویڈیوز اس کے سامنے آتی ہیں۔انہوں نے موقف اختیار کیا کہ مخصوص مواد کو نشانہ بنا کر بلاک کرنا انتہائی مشکل عمل ہے، تاہم پی ٹی اے اس حوالے سے کام کر رہی ہے اور متعدد اکانٹس کو بلاک بھی کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق جس اکانٹ کے خلاف شکایت موصول ہوتی ہے، اس کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔اس موقع پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ اگر سیاسی نوعیت کی پوسٹس کو فوری طور پر بلاک کیا جا سکتا ہے تو غیر اخلاقی مواد کے خلاف بھی مثر اقدامات کیوں نہیں کیے جا سکتے۔پی ٹی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سوشل میڈیا کے ضابطہ کار سے متعلق اب ایک نئی اتھارٹی، سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی، قائم کی گئی ہے جو اس معاملے کو دیکھ رہی ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ نئی اتھارٹی کو بھی فریق بنایا جائے اور اس سے جواب طلب کیا جائے۔عدالت نے سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed