محرم الحرام’12ہزار اہلکار تعینات’ 9 اور 10 کو موبائل سروس بند ہوگی

صوبائی دارالحکومت پشاور میں محرم الحرام سکیورٹی پلان تیار کر لیا گیا، پشاور پولیس کی جانب سے پلان کے تحت تقریبا 12 ہزار پولیس افسران اور اہلکار سکیورٹی اور ٹریفک ڈیوٹی سرانجام دیں گے، تاکہ جلوسوں اور مجالس کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔شہر بھر میں امن و آمان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے طے شدہ پلان کے تحت مختلف یونٹس ڈیوٹی میں شامل کیے گئے ہیں، جن میں آر آر ایف، اے ٹی ایس، کیو آر ایف، لیڈیز پولیس، ٹریفک پولیس، بم ڈسپوزل یونٹ، ابابیل سکواڈ، سٹی پٹرولنگ فورس اور ڈی ایس بی شامل ہیں۔تمام امام بارگاہوں، مجالس اور جلوسوں کے روٹس کی بم ڈسپوزل یونٹ اور سنففر ڈاگز کے ذریعے مسلسل چیکنگ اور سویپنگ کی جائے گی۔سیف سٹی پراجیکٹ پشاور کے تحت شہر بھر کی براہِ راست نگرانی کی جا رہی ہے، جبکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز فعال کر دیے گئے ہیں۔کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز میں سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے امام بارگاہوں، جلوسوں اور حساس مقامات کی 24 گھنٹے نگرانی جاری رہے گی۔شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ اور سکیورٹی نظام کو مزید مثر اور سخت بنا دیا گیا ہے۔ضلع بھر میں انٹیلی جنس بیسڈ سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز جاری ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت روکا جا سکے۔ماتمی جلوسوں کو تھری لیئر سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ گزرگاہوں پر روف ٹاپ گن پوائنٹس اور اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔محرم الحرام کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کیلئے 1000 سے زائد ٹریفک پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ پشاور میں محرم الحرام سکیورٹی پلان تیار کر لیا گیا، پشاور پولیس کی جانب سے پلان کے تحت تقریبا 12 ہزار پولیس افسران اور اہلکار سکیورٹی اور ٹریفک ڈیوٹی سرانجام دیں گے.محرم الحرام کے دوران سکیورٹی خدشات کے پیش نظر صوبے کے 14 حساس اور حساس ترین اضلاع میں نویں اور دسویں محرم کو جزوی طور پر موبائل وانٹرنیٹ سروس معطلی کی سفارش کی گئی ہے۔ اس حوالے سے محکمہ داخلہ کو باضابطہ مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق جن اضلاع کو حساس ترین قرار دیا گیا ہے ان میں پشاور، کوہاٹ، ہنگو، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں، لکی مروت اور ضلع کرم شامل ہیں۔اس کے علاوہ مزید 6 اضلاع کو حساس کیٹیگری میں رکھا گیا ہے جہاں سکیورٹی انتظامات معمول سے کہیں زیادہ سخت ہوں گے۔محرم الحرام کے دوران صوبہ بھر میں جلوسوں اور مجالس کے تحفظ کے لیے 43 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔جلوسوں کے روٹس اور اہم مقامات کی نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کا استعمال بھی کیا جائے گا، جبکہ حساس علاقوں میں جدید اینٹی ڈرون سسٹم فعال رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین عبدالخبیر آزاد کی زیر صدارت اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ ملک میں محرم الحرام 1448 ہجری کا چاند نظر نہیں آیا۔ اس لئے یکم محرم 17 جون جبکہ یوم عاشور 26 جون بروز جمعہ ہوگی۔صوبائی حکومت نے یکم محرم الحرام کے موقع پر صوبے بھر میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سرکاری دفاتر اور متعلقہ ادارے بند رہیں گے، جبکہ تعطیل کا اطلاق مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed