پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں تھیالوجی اور عربی اساتذہ کی بھرتیوں کیلئے تعلیمی اہلیت اور نمبروں کے تعین کے طریقہ کار کے خلاف دائر درخواستیں خارج کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کی وضاحت کو درست قرار دے دیا۔14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس بابر ستار نے تحریر کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے 9 جنوری 2026 کو جاری کیا گیا خط کوئی نئی پالیسی نہیں بلکہ پہلے سے موجود قواعد و ضوابط کی وضاحت ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزاروں نے جنوری 2025 میں تھیالوجی ٹیچر (بی پی ایس (15کی آسامیوں کے لیے درخواستیں دی تھیں اور مقف اختیار کیا تھا کہ 19 جولائی 2024 کے نوٹیفکیشن کے تحت بی ایڈ کی ڈگری رکھنے والے امیدواروں کو 15 اضافی نمبر دیے جانے چاہییں تھے۔درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے بعد ازاں جاری کی گئی وضاحت نے شفافیت اور جائز توقعات کے اصولوں کو متاثر کیا ہے۔دوسری جانب اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 9 جنوری 2026 کا خط نئی پالیسی نہیں بلکہ صرف وضاحتی نوٹس ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا سول سرونٹس رولز 1989 کے تحت تعلیمی اہلیت کے لیے 100 نمبر مختص ہیں اور کسی بھی ڈگری کی دوہری گنتی کی اجازت نہیں ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ محکمہ تعلیم کی وضاحت کے مطابق شہاد العالمیہ، عربی ٹیچر (اے ٹی) اور تھیالوجی ٹیچر (ٹی ٹی) کی آسامیوں کے لیے لازمی تعلیمی اہلیت ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ اساتذہ کی بھرتی سے متعلق محکمہ تعلیم کی وضاحت قانون اور قواعد کے مطابق ہے، لہذا درخواستیں خارج کی جاتی ہیں۔







