قبائلی ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں خیبر نیوز کے نمائندے صائم خان آفریدی پر گزشتہ روز ہونے والے حملے کے بعد ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی بھرپور مذمت کی ہے اور حکومت سے حملہ آوروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی صدر حسبان اللہ کی ہدایت پر تنظیم کے نائب صدر ابوذر آفریدی نے صائم خان آفریدی کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور ان کی عیادت کی۔ اس موقع پر انہوں نے صائم خان آفریدی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہر قسم کی ممکنہ مدد اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ابوذر آفریدی نے کہا کہ صحافیوں پر حملے آزادی صحافت پر حملے کے مترادف ہیں اور ایسے واقعات کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں۔ انہوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ صائم خان آفریدی پر قاتلانہ حملے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع میں صحافی انتہائی مشکل حالات میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، اس لیے ان کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قبائلی صحافیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دے سکیں۔دریں اثنا ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی صدر حسبان اللہ، جنرل سیکرٹری جمیل خان، سینئر نائب صدر شاکر اللہ موحد، فنانس سیکرٹری دلدار حسین، نائب صدر ابوذر آفریدی اور دیگر عہدیداروں نے مشترکہ بیان میں صائم خان آفریدی پر ہونے والے حملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔رہنمائوں نے اپنے بیان میں کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں اور ان پر حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، حملہ آوروں کو فوری گرفتار کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس صحافی برادری کے حقوق، تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی صحافی کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گی۔







