پشاور ہائیکورٹ میں 9اور 10مئی کے مقدمات واپس لینے کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ سماعت جسٹس کامران حیات میانخیل نے کی۔دورانِ سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ زیر سماعت کتنے مقدمات ہیں؟ جس پر اسپیشل پراسیکیوٹر نے بتایا کہ تین مختلف مقدمات زیر غور ہیں جن میں چالیس سے زائد افراد نامزد ہیں۔اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ نامزد افراد کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔ اس پر جسٹس کامران حیات میانخیل نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے تھے۔عدالت نے مزید استفسار کیا کہ اگر مقدمات درست نہیں تھے تو متعلقہ ایس ایچ اوز کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ جسٹس کامران حیات میانخیل نے یہ بھی استفسار کیا کہ آیا طلب کردہ ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا ہے یا نہیں۔اسپیشل پراسیکیوٹر نے بتایا کہ متعلقہ تھانوں سے ابھی تک مطلوبہ ریکارڈ موصول نہیں ہوا۔اس پر عدالت نے ہدایت کی کہ مقدمات کا مکمل ریکارڈ طلب کیا جائے تاکہ درخواستوں کا جائزہ لیا جا سکے۔بعد ازاں عدالت نے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمات کا ریکارڈ جمع کرانے کی ہدایت کی اور مزید سماعت ملتوی کر دی۔







