گلیات جنگلات کے اصل خدوخال بحال کرنے کی ہدایت

پشاور ہائی کورٹ نے گلیات میں جنگلات کی حدود کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو جنگلات کی اصل خدود بحال کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ گلیات میں ہوٹلوں اور دیگر عمارتوں کی بے ہنگم تعمیرات نے ماحولیات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔کیس کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران سیکرٹری جنگلات جنید خان، ڈی جی گلیات اور کنزرویٹر ہزارہ ڈویژن عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ گلیات میں صرف ہوٹل بنانا ترقی نہیں بلکہ ماحولیات کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد عمارتیں مجوزہ قوانین کے خلاف تعمیر کی گئی ہیں جبکہ ہوٹلوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے علاقے کے قدرتی ماحول کو متاثر کیا ہے۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اب گلیات میں بھی نمایاں ہو رہے ہیں اور وہاں پنکھوں کا استعمال شروع ہو چکا ہے۔ جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں وہاں ائیر کنڈیشنرز کا استعمال بھی معمول بن جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ علاقے میں صرف اتنی ہی تعمیرات اور ہوٹل ہونے چاہئے جتنے سیاحوں کو مناسب سہولیات فراہم کر سکیں۔سیکرٹری جنگلات جنید خان نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کر رہا ہے اور غیر قانونی تعمیرات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اب تک سینکڑوں کنال جنگلاتی اراضی واگزار کرا چکا ہے، تاہم دو مقامات پر عدالتی مقدمات کے باعث مسائل درپیش ہیں۔عدالت کے استفسار پر سیکرٹری جنگلات نے جنگلات کی حدود کے تعین کے لیے تین ماہ کی مہلت طلب کی۔ اس پر عدالت نے ہدایت کی کہ سروے آف پاکستان 2016 کی رپورٹ کے مطابق جنگلات کی حدود بحال کی جائیں اور اس حوالے سے پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔بعد ازاں عدالت نے جنگلات کی حدود کی بحالی سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed