وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جمعہ کو صوبہ گیر احتجاج کی کال

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت اور مقتدر حلقوں کے خلاف سخت ترین موقف اختیار کرتے ہوئے صوبے بھر میں احتجاج کی کال دے دی، انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور صوبے کے ساتھ ہونے والی مبینہ معاشی ناانصافیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ پختونخوا ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وہ اپنی کابینہ، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور دیگر منتخب نمائندوں کے ہمراہ عمران خان سے اظہارِ یکجہتی اور ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کے اظہار کے لیے اسلام آباد جا رہے تھے، تاہم ان کے 26نمبر چونگی پہنچنے سے قبل ہی انتظامیہ نے مرکزی شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کو بند کر رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بندش کا فیصلہ خود انتظامیہ کی جانب سے کیا گیا جس کے نتیجے میں نہ صرف خیبرپختونخوا کے ساڑھے چار کروڑ عوام کے منتخب نمائندوں کو روکا گیا بلکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے لاکھوں شہری بھی 10 سے 11 گھنٹے شدید ٹریفک جام اور آمدورفت کی مشکلات کا شکار رہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ موقع پر اسلام آباد پولیس اور انسداد دہشت گردی اسکواڈ کی بھاری نفری تعینات تھی اور اہلکاروں کو بندوقوں میں کارتوس بھرتے ہوئے دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وہاں کسی جلسے، احتجاج یا سیاسی اجتماع کے لیے نہیں جا رہے تھے بلکہ صرف عمران خان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے روانہ ہوئے تھے، تاہم منتخب نمائندوں کے ساتھ اختیار کیا گیا رویہ انتہائی افسوسناک اور تشویشناک تھا۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا نے وہ مناظر دیکھے جن میں ایک صوبے کے وزیراعلی، کابینہ اراکین اور منتخب پارلیمنٹیرینز کو روکنے کے لیے سکیورٹی اہلکار تعینات تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک صوبے کے منتخب نمائندوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے تو عام شہریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے منتخب نمائندوں اور کارکنان پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ رکن قومی اسمبلی انور تاج کو گرفتار کیا گیا جبکہ متعدد کارکنان گولیوں سے زخمی ہوئے۔ زخمی کارکنان کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض افراد کے جسم میں اب بھی گولیاں موجود ہیں، تاہم تمام تر تشدد اور طاقت کے استعمال کے باوجود کارکنان کے حوصلے بلند ہیں۔ وزیراعلی نے کہا کہ انہوں نے موقع پر موجود پولیس افسران سے واضح طور پرا کہا کہ ایسے اقدامات نفرتوں کو ہوا دے رہے ہیں اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ساتھ ہونے والا سلوک دیکھ رہے ہیں اور اگر صوبے کو مسلسل دیوار سے لگانے کی کوشش جاری رہی تو اس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed