شعیب جمیل
پشاورہائیکورٹ نے پولیس حکام کولینڈمافیا،قبضہ گروپس اور دیگرجرائم پیشہ عناصرکیخلاف کارروائی کو قانونی قراردیتے ہوئے اپنے فیصلے میں قراردیاہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیار حاصل ہے کہ وہ آئین وقانون کے تحت جرائم پیشہ عناصر اور مافیاز کیخلاف بلاتفریق کارروائیاں کریں تاکہ عوام کا اداروں پر اعتماد بحال ہو تاہم جو مقدمات سول کورٹس میں زیرسماعت ہیں اس میں ان اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہیں اور غیر قانونی کام نہ کریں جس سے ان کی ساکھ متاثر ہو۔عدالت نے اس ضمن میں پشاور پولیس حکام کی رٹ منظور کرلی اور ماتحت عدالت کی جانب سے پولیس حکام کے خلاف انکوائری کا حکم کالعدم قرار دے دیا ۔ جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دورکنی بنچ نے سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد سمیت دیگر کی رٹ پر سماعت کی۔ عدالت کو بتایاگیاکہ سلیمہ محسودنامی درخواست گزارہ نے سیشن کورٹ میں 22اے کی درخواست دی کہ جس میں پولیس پر اختیار ات کا غلط استعمال اورہراسانی کا الزام لگایاگیا ۔انہوں نے بتایاکہ حاجی اللہ نظر نے سی سی پی او پشاو ر کو درخواست دی کہ اس نے 2کروڑ 3لاکھ روپے افغانی، 3ہزار امریکی ڈالرز اور 25ہزار روپے مذکورہ خاتون کے والد کو دی تاہم یہ سول نوعیت کا معاملہ ہے اور اس میں فوجداری کارروائی نہیں بنتی لیکن ڈی ایس پی گلبہار ودیگر اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو بار بارتنگ کرکے دفتر طلب کرتے ہیں۔ جسٹس آف پیس نے 22اے کی درخواست پر آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ وہ اختیارات سے تجاوز پر متعلقہ پولیس افسران کیخلاف محکمانہ کارروائی کرے جس کیخلاف سی سی پی او پشاورڈاکٹر میاں سعید ودیگر پولیس حکام نے ہائیکورٹ میں رٹ دائر کی۔ ان کے وکیل محمد یوسف اورکزئی نے دوران سماعت دلائل دیئے کہ جسٹس آف پیس کے احکامات انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں اور انہوں نے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے ۔ پولیس افسران کو اپنے کام سے روکنا اور اس قسم کے عدالتی احکامات سے پولیس افسران کا مورال گرے گا اور وہ اپنے فرائض بہتر طریقے سے انجام نہیں دے سکیں گے۔اس سے ریاست مخالف عناصر کی نظر میں بھی قانون کی اہمیت کم ہوگی۔ ایسے عناصر کیخلاف کارروائیاں کرکے معاشرے میں امن قائم کیاجاسکتا ہے ۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر30صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا جوجسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے تحریر کیا ہے۔عدالت نے قراردیاکہ سیکشن22اے کے تحت عدالت کو لامحدود اختیارات حاصل نہیں ،جسٹس آف پیس ایک انویسٹی گیٹنگ اتھارٹی یا ڈسپلنری فورم کے طور پر کام نہیں کرسکتی ۔اس ضمن میں اعلی عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں اس بات پر زوردیاہے کہ جوڈیشری ودیگر اتھارٹیز کو اپنے اختیارات دائرکارمیں رہ کر استعمال کرنے چاہیے جس سے کسی ادارے یا افسر کاوقار مجروح نہ ہو۔یہ ضروری ہے کہ جو درخواست اور مواد جسٹس آف پیس کودی گئی اس کی قانونی حیثیت دیکھی جائے جس کی بنیاد پر انکوائری کاحکم دیاگیاہے تاہم اس حوالے سے جسٹس آف پیس اپنے دائرہ اختیار سے باہر نکلنے ہے ۔تحریری فیصلے کے مطابق جائیدادمسائل کے علاوہ ایسے تنازعات جس میں شہریوں کے جان ومال کو خطرات لاحق ہوں اس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کے مطابق مداخلت کرسکتے ہیں تاہم انہیں احتیاط سے کام لینا چاہیے اوریہ کارروائی دائرہ اختیار سے باہر نہ ہو۔پولیس شہریوں کے وارثتی وجائیداد کے حقوق کے تحفظ کیلئے لینڈمافیاو قبضہ مافیا وغیرہ کیخلاف بلاتفریق کارروائیاں کریں تاکہ عوام کا اداروں اور جسٹس ڈیلیوری سسٹم پر اعتماد بحال رہے اور معاشرے میں امن برقرار رہے ۔ عدالت نے مزید کہاہے کہ فریقین کوئی ٹھوس مواد یا شواہد عدالت کے سامنے پیش نہیں کر سکے جس کی بنیاد پر درخواست گزارپولیس افسران کیخلاف لگائے گئے الزامات کی تصدیق ہوسکے نہ ہی وہ ثابت کرسکیں کہ انہیں ہراساں کیاجارہاہے ۔ فیصلے کے مطابق جسٹس آف پیس کویہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ کسی قانونی اتھارٹی کو کارروائی سے روکے ۔عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے جسٹس آف پیس کا فیصلہ کالعدم قراردیدیا ۔







