پشاور ہائی کورٹ نے کوہستان سکینڈل میں نامزد ملزم سیف الرحمن کی گاڑی سے متعلق درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کیس دوبارہ احتساب عدالت کو بھجوا دیا اور ہدایت کی کہ درخواست گزار کو سننے کا موقع فراہم کرتے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔درخواست کی سماعت جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس محمد اعجاز خان پر مشتمل بنچ نے کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل امین الرحمن یوسفزئی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار گاڑی کا رجسٹرڈ مالک ہے اور نیب نے ان سے گاڑی تحویل میں لی تھی۔سماعت کے دوران جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے استفسار کیا کہ گاڑی کی مالیت کتنی ہے، جس پر وکیل نے بتایا کہ یہ آلٹو گاڑی ہے جس کی قیمت تقریبا چار لاکھ 50 ہزار روپے ہے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اربوں روپے کے سکینڈل میں چار لاکھ روپے کی حیثیت کچھ بھی نہیں۔وکیل درخواست گزار نے مقف اختیار کیا کہ احتساب عدالت نے صرف اس بنیاد پر درخواست خارج کی کہ وہ 30 دن تاخیر سے دائر کی گئی، جبکہ درخواست گزار کو ابتدائی طور پر معلوم ہی نہیں تھا کہ راولپنڈی سے لی گئی گاڑی کہاں موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیب کی جانب سے درخواست گزار کو کوئی نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔دوسری جانب نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر ارباب کلیم اللہ نے مقف اپنایا کہ کوہستان سکینڈل اربوں روپے کا معاملہ ہے۔ ان کے مطابق گاڑی اگرچہ 2015 میں خریدنے کا دعوی کیا جا رہا ہے، تاہم اس کی رجسٹریشن بعد میں ہوئی، جبکہ گاڑی پہلے امیر سید کے نام پر رجسٹرڈ تھی اور نیب نے انہیں نوٹس بھی جاری کیا تھا۔







