جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے نام پر پاکستان میں غریب عوام پر مہنگائی کی قیامت ڈھا دی گئی، شہباز شریف کو کہیں بھی حکمران نہیں سمجھا جارہا، حکومت بے بس اور اسٹیبلشمنٹ طاقتور ہے،آئین کا کھلواڑ بنادیا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی آئین کے تحفظ کے لئے مضبوط کردار ادا کرے ہم اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے،خون کی جھیل میں کھڑا ہوکر آپ سے مخاطب ہوں، پارلیمنٹ کے ان کیمرہ اجلاس سے حکومت کیوں راہ فرار اختیار کررہی ہے۔ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ میں خون کی جھیل میں کھڑا ہوکر آپ سے مخاطب ہوں، جمعیت علمائے اسلام کے اکابرین اور پارلیمنٹ کے ممبران دہشت گردی کے ہاتھوں شہید ہوچکے ہیں اس کے باوجود جمعیت علمائے اسلام اور تمام مکاتب فکر آئین اور ملک کے ساتھ کھڑے ہیں، پندرہ بیس آپریشنز کے باوجود حالات قابو نہیں آرہے بلکہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق حالات مزید خرابی کا شکار ہوگئے ہیں،انڈیا کے ساتھ جنگ کے دوران ہمارے دفاعی اداروں نے جو کارکردگی دکھائی ہم نے اسے نہیں چھپایا نہ آج چھپاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود کسی ملک کی پٹرولیم قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑا صرف پاکستان میں کیوں مہنگائی عروج پر پہنچادی گئی ہے؟ انڈیا ایران افغانستان کوئی متاثر نہیں ہوا لیکن ہم نے عوام پر قیامت برپا کردی آخر ماہرین معیشت کہاں ہیں؟ ہم نے موجودہ صورتحال میں پارلیمنٹ کے ان کیمرہ اجلاس کی بات کی لیکن حکومت اس تجویز سے راہ فرار اختیار کررہی ہے، کیوں ہمیں حالات سے آگاہ نہیں کیا جارہا، آج دنیا میں شہباز شریف کو ملک اور بیرون ملک کہیں بھی حکمران نہیں سمجھا جارہا وہ صرف قانون سازیاں کروانے کے لئے ہیں، آج ملک میں آئین کو مذاق بنادیا گیا ہے حکومت بے بس ہے اور اسٹیبلشمنٹ طاقتور ہے، آج میرا آئین غیر محفوظ ہے اوپر تلے ترامیم لاکر اس کا حلیہ بگاڑا جارہا ہے







