ایم ٹی آئی بنوں،تین ماہ کا سفر ،بہتری کی جانب مثبت پیش رفت

خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع خصوصا ًبنوں اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی ایک عرصے سے ایک اہم مسئلہ رہی ہے۔ لاکھوں کی آبادی پر مشتمل اس خطے میں نہ صرف مقامی شہری بلکہ شمالی و جنوبی وزیرستان، کرک، لکی مروت، ٹانک اور سرحدی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی علاج کی غرض سے انہی ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ اس تناظر میں میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن بنوں کے زیرِ انتظام چلنے والے تدریسی ہسپتال خلیفہ گل نواز ٹیچنگ ہسپتال، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اور وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال علاقے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں ادارے کی انتظامیہ نے ہسپتالوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عوامی اعتماد کو بحال کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ہاسپٹل ڈائریکٹر ڈاکٹر افتخار اللہ کے مطابق، اصلاحات کے اس عمل کا بنیادی مقصد مریضوں کو مقامی سطح پر معیاری، بروقت اور باوقار طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ڈاکٹر افتخار اللہ بتاتے ہیں کہ ماضی میں ریفرل سسٹم ایک بڑا چیلنج بن چکا تھا، جہاں ایسے کیسز بھی بڑے شہروں کو بھیج دیے جاتے تھے جن کا علاج مقامی سطح پر ممکن تھا۔ اس صورتحال نے نہ صرف مریضوں پر مالی بوجھ بڑھایا بلکہ انہیں ذہنی اذیت اور وقت کے ضیاع کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اسی پس منظر میں نئی انتظامیہ نے ریفرل کے رجحان کو کم کرنے اور ہسپتالوں میں ہی زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کو اپنی ترجیح بنایا۔اسی حکمت عملی کے تحت مختلف شعبہ جات کو فعال اور مضبوط بنایا گیا، جبکہ نئی اسپیشلٹیز کا آغاز بھی کیا گیا۔ نیوروسرجری، واسکولر سرجری اور پلاسٹک سرجری جیسے اہم شعبہ جات کی دستیابی سے اب مریضوں کو اپنے ہی علاقے میں جدید علاج میسر آ رہا ہے، جو ایک بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔اصلاحات کا دائرہ کار صرف طبی سہولیات تک محدود نہیں رہا بلکہ ہسپتالوں کے مجموعی ماحول کو بہتر بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ صفائی کے نظام کو بہتر بنایا گیا، وارڈز کی حالت کو سنوارا گیا اور ایک ایسا ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی گئی جہاں مریض خود کو باعزت اور مطمئن محسوس کریں۔ ڈاکٹر افتخار اللہ کے مطابق، ایک صاف ستھرا اور منظم ماحول علاج کے عمل میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ طبی عملے کی تربیت پر بھی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ مختلف تربیتی سیشنز اور ورکشاپس کے ذریعے ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملے کو پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ مریضوں کے ساتھ بہتر برتا کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں مریضوں کے تجربے میں بہتری آئی ہے اور ادارے کا مجموعی ماحول زیادہ مثبت ہوا ہے۔نظم و ضبط کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ عملے کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک نظام کو مئوثر انداز میں نافذ کیا گیا ہے اور تنخواہوں کو حاضری سے منسلک کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف ڈسپلن میں بہتری آئی ہے بلکہ خدمات کی فراہمی میں تسلسل بھی پیدا ہوا ہے۔ادویات کی فراہمی کے شعبے میں بھی نمایاں اقدامات کیے گئے ہیں۔ ایمرجنسی وارڈز میں ضروری ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ صحت سہولت پروگرام کے تحت داخل مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس اقدام سے مریضوں پر مالی بوجھ میں نمایاں کمی آئی ہے۔علاقے میں حادثات کی زیادہ شرح کے پیش نظر ٹراما کیئر پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ جدید ایمرجنسی سہولیات کی فراہمی اور ٹراما سنٹر کے قیام سے ہنگامی حالات میں فوری اور مثر طبی امداد کی فراہمی ممکن ہو رہی ہے، جو کہ خطے کی ایک اہم ضرورت تھی۔انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے بھی مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ ہسپتالوں میں توانائی کے مسائل کے حل کے لیے سولرائزیشن کے منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ آکسیجن کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سنٹرلائزڈ سسٹم کو فعال کیا گیا ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف سہولیات میں بہتری آئی ہے بلکہ اخراجات میں بھی کمی ممکن ہوئی ہے۔تشخیصی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے جدید مشینری کی تنصیب کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مریضوں کو ٹیسٹ اور ایکسرے کے لیے باہر جانے کی ضرورت کم ہو گئی ہے۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوئی ہے بلکہ مریضوں کو سہولت بھی حاصل ہوئی ہے۔عوامی شکایات کے ازالے کے لیے کمپلینٹ سیلز کا قیام بھی ایک اہم قدم ہے۔ ڈاکٹر افتخار اللہ کے مطابق، عوامی فیڈبیک ادارے کی بہتری کے لیے ناگزیر ہے، اور اسی بنیاد پر پالیسیوں میں بہتری لائی جا رہی ہے۔ڈاکٹر افتخار اللہ اس پورے عمل کو ایک اجتماعی کاوش قرار دیتے ہیں جس میں انتظامیہ، طبی عملہ، حکومت اور عوام سب شامل ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں حاصل ہونے والی پیش رفت محض ایک آغاز ہے، اور آنے والے وقت میں مزید بہتری کے لیے واضح اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایم ٹی آئی بنوں میں جاری اصلاحات ایک مثبت سمت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو مستقبل قریب میں یہ ادارے نہ صرف مقامی بلکہ علاقائی سطح پر بھی معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed