کشمیری خواتین نے سی ایس ایس امتحانات میں تاریخ رقم کر دی

آصف اشرف

حکومت پاکستان کے ادارے پبلک سروس کمیشن کے زیر اہتمام منعقدہ سنٹرل سپیریئر سروسز امتحان 2025کے حتمی نتائج میں آزاد جموں کشمیر کی خواتین نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہم کامیابی حاصل کر لی۔ حیران کن طور پر اس سال آزاد کشمیر سے کوئی بھی مرد امیدوار کامیاب نہ ہو سکا جبکہ چار خواتین امیدواروں نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے مختلف اعلی سول سروس گروپس میں الاٹمنٹ حاصل کر لی۔ مظفرآباد کی بیوہ ماں کی یتیم بیٹی ایمن اسد راولاکوٹ کی صبا شاہ روم کوٹلی کی انیقہ فاطمہ اور نیلم کی ولیجہ نثار تاریخ رقم کر گئیں
حتمی نتائج کے مطابق سی ایس ایس کے تحریری امتحان میں 12,792امیدواروں نے شرکت کی جن میں سے صرف 355 امیدوار تحریری مرحلہ پاس کر سکے۔ بعد ازاں مجموعی طور پر 170 امیدواروں کو مختلف سروس گروپس کے لیے سفارش کی گئی جن میں 84 مرد اور 86 خواتین شامل ہیں۔ یوں قومی سطح پر خواتین امیدواروں نے معمولی برتری حاصل کی۔سی ایس ایس امتحان میں مجموعی کامیابی کی شرح صرف 2.67 فیصد رہی، جو اس امتحان کی سختی، اعلی معیار اور مسابقتی نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔سی ایس ایس کو پاکستان کے مشکل ترین مقابلے کے امتحانات میں شمار کیا جاتا ہے۔آزاد کشمیر سے کامیاب ہونے والی امیدوار خواتین میں انیقہ فاطمہ (ضلع کوٹلی، تحصیل فتح پور تھکیالہ)انیقہ فاطمہ کو پاکستان کسٹمز سروس میں سفارش کی گئی ہے۔ وہ چودھری شفیع مرحوم (ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر)کی صاحبزادی اور نعمان شفیع سابق صدر پریس کلب فتح پور تھکیالہ کی ہمشیرہ ہیں۔ دوسری کامیاب خاتون (ایمن اسد مظفرآباد) کی یونین کونسل بلگراں سے تعلق رکھتی ہیں ،ایمن اسد کو اسسٹنٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو کے طور پر سفارش کی گئی ہے۔ وہ یتیم ہیں اور ان کی پرورش ان کی والدہ نے کی جو ایک اسکول ٹیچر ہیں۔ ان کی کامیابی عزم، محنت اور جدوجہد کی روشن مثال قرار دی جا رہی ہے تیسری کامیابی سمیٹنے والی خاتون ولیجہ نثار خواجہ (وادی نیلم کی ، یونین کونسل لمانیان سے تعلق رکھنے والی خواجہ مرحوم خواجہ نثار احمد کی صاحبزادی ہیں۔ انہیں کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ میں سفارش کی گئی ہے، جس پر ان کے علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ چوتھی کامیابی حاصل کرنے والی ضلع پونچھ کے علاقے راولاکوٹ، بنگوئیں ہلاںخوش صبا شاہ روم ہیں جن کو آفس مینجمنٹ گروپ میں الاٹمنٹ دی گئی ہے۔ ان کی کامیابی کو راولاکوٹ اور پونچھ کے لیے ایک نمایاں اعزاز قرار دیا جا رہا ہے۔نتائج نے ایک مرتبہ پھر طالبات کی لائقی ثابت کر دی ،آزاد کشمیر سے خواتین کی اس غیر معمولی کامیابی نے فخر کا احساس پیدا کیا ہے

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed