پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سینئر قانون دان معظم بٹ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اب محض ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ ملک میں آئین، قانون اور جمہوری اقدار کی بحالی کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے ہم سب کو متحد ہو کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عمران خان اس وقت ملکی سیاست میں ایک مرکزی اور ناگزیر حیثیت اختیار کر چکے ہیں، جنہیں عوامی مینڈیٹ کے باوجود پابند سلاسل رکھنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تین طرح کی عدالتیں موجود ہیں، جن میں پہلی عدالت عوام کی عدالت ہے۔ عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت سے عمران خان کو منتخب کیا، مگر اس فیصلے کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں قید کر دیا گیا اور ایک جعلی اسمبلی قائم کی گئی، جو عوامی خواہشات کی حقیقی نمائندہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ دوسری عدالت قانون کی عدالت ہے، جہاں انصاف کی فراہمی کا انحصار ججز کی آزادی، خودمختاری اور جرات پر ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں عدلیہ کو مزید توانا اور مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ کسی دبا کے بغیر آئین و قانون کے مطابق فیصلے کر سکے۔ انہوں نے وکلا برادری، سول سوسائٹی اور دیگر طبقات پر زور دیا کہ وہ عدالتی نظام کی مضبوطی اور بالادستی کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔معظم بٹ ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ تیسری اور سب سے بڑی عدالت اللہ تعالی کی ہے، جہاں ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ حق اور سچ کو دبایا نہیں جا سکتا اور بالآخر انصاف کا بول بالا ہوتا ہے۔ زبانِ خلق کو نقارہ خدا سمجھنا چاہیے، اس لیے عوامی آواز کو نظر انداز کرنا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کیا گیا اور سیاسی استحکام کو یقینی نہ بنایا گیا تو اس کے منفی اثرات ملک کی معیشت، اداروں اور سماجی ہم آہنگی پر پڑ سکتے ہیں۔







