امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ پھر سے شروع کرنے کی دھمکی کے بعد ا خوش آئند بیان میں کہا ہے کہ ایران سے فون پر مذاکرات جاری ہیں۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہیے، ایران کوکہنا ہوگا کہ وہ ہارگئے ہیں کیونکہ ہم ایران کے خلاف جنگ میں اپنے مقاصد تقریبا حاصل کرچکے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا کہ ایران کے 82 فیصد میزائل تباہ اور 159 بحری جہاز ڈبو دئیے ہیں، ایرانی کرنسی کی کوئی قدروقیمت نہیں رہی، روسی صدر پیوٹن کے ساتھ ایران اور یوکرین کے معاملے پر ان کی فون پر بات چیت ہوئی ہے۔ٹرمپ نے بتایا کہ پیوٹن سے کہا ہے امریکا جنگ بند کرنے میں مدد دینے سے پہلے روس کو اپنی جنگ بند کرنی ہوگی، پیوٹن نے ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی کے معاملے پر فکرمندی کا اظہار کیا ہے ۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جرمنی میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں ممکنہ کمی پر غور کیا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فوجیوں میں کمی سے متعلق جلد فیصلہ کرلیا جائے گا، ٹرمپ کا یہ بیان جرمن چانسلر کی ایران جنگ پر تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا تھا کہ ایرانی قیادت کے ہاتھوں پوری امریکی قوم کی تذلیل ہو رہی ہے اور امریکا کے پاس ایران جنگ سے نکلنے کی کوئی حکمت عملی نظر نہیں آرہی۔







