مصنوعی سیاروں نے مریخ پر باتھ ٹب رِنگ کا راز فاش کر دیا

مریخ کے گرد گھومنے والے مصنوعی سیاروں اور اس کی سطح پر گھومنے والی گاڑیوں سے جمع کیے گئے بہت سے شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایک طویل عرصہ پہلے وہاں تالابوں، جھیلوں اور دریاں کی شکل میں مائع پانی موجود تھا۔ ساتھ ہی یہ خیال کہ مریخ کے شمالی میدانوں میں کبھی ایک بہت بڑا سمندر تھا، بھی سائنسی بحث کا موضوع رہا ہے۔اب سائنسدانوں نے زمین کے پڑوسی سیارے پر اس مفروضہ سمندر کے ممکنہ خدوخال کا سراغ لگایا ہے جس کے لیے امریکی خلائی ادارے (ناسا)کے ایک ایسے مسبار (پروب) کا ڈیٹا استعمال کیا گیا جس نے ایک دہائی تک مریخ کا چکر لگایا۔ ان کی تحقیق مریخ کی سطح پر ایک ایسی چیز کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہے جو کانٹینینٹل شیلف (براعظمی ڈھلوان)سے مشابہ ہے۔ یہ ایسی ڈھلوان ہوتی ہے جو عام طور پر خشکی اور سمندروں کے درمیان حدِ فاصل ہوتی ہے۔انہوں نے اس ڈھلوان کو باتھ ٹب رنگ یعنی غسل کے ٹب کے گرد بننے والے نشان سے تشبیہ دی ہے۔ یہ نشان اس جگہ کو ظاہر کرتا ہے جہاں شاید مریخ کی سطح پر پانی اور خشکی کا ملاپ ہوا تھا۔ چونکہ مریخ پر کوئی براعظم نہیں ہیں اور وہاں ٹیکٹونک پلیٹس کا وہ ارضیاتی عمل بھی نہیں ہے جس کے نتیجے میں زمین کے براعظم بنے۔ اس لیے محققین مریخ کے ان خدوخال کو کوسٹل کلف (ساحلی چٹان)کا نام دیتے ہیں۔نظام شمسی کے دیگر سیاروں اور زمین کی طرح مریخ بھی تقریبا 4.5 ارب سال پہلے بنا تھا۔ اپنی ابتدائی تاریخ میں سرخ سیارہ اپنی موجودہ ٹھنڈی اور خشک حالت کے مقابلے میں زیادہ گرم اور مرطوب تھا۔محققین نے ناسا کے مارس گلوبل سرویئر کے ذریعے جمع کیے گئے مریخ کے ٹوپوگرافک ڈیٹا کا معائنہ کیا اور اس حد کا تعین کیا جو سمندری خطوط کی نشاندہی کرتی ہے۔ سابقہ تحقیقات نے اشارہ دیا تھا کہ مریخ کے شمالی نصف کرہ میں اس مفروضہ سمندر نے سیارے کی سطح کے تقریبا ایک تہائی حصے کو ڈھانپ رکھا تھا جو زمین کے سمندروں کے کل رقبے کے تقریبا 13 فیصد کے برابر ہے۔یہ مطالعہ مریخ پر قدیم سمندر کی موجودگی کے سابق شواہد پر مبنی ہے جس میں قدیم ساحلی لکیر جیسی ساختوں کا مشاہدہ کرنے والی تحقیقات بھی شامل ہیں۔ چینی گاڑی ژورونگ کے ذریعے جمع کیے گئے زمینی ریڈار ڈیٹا ، جس کی تفصیل پچھلے سال شائع ہونے والی ایک تحقیق میں دی گئی تھی، نے ایسی علامات ظاہر کی تھیں جو مریخ کی ایک ساحلی پٹی پر ریتلے ساحلوں کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہیں جو اب زیرِ زمین دب چکی ہے۔سائنسدانوں نے کئی ایسے جغرافیائی خدوخال کی بھی نشاندہی کی ہے جو قدیم دریاں کے ڈیلٹا کی باقیات معلوم ہوتے ہیں، جہاں شاید دریا پانی کے کسی بڑے ذخیرے میں گرتے تھے۔ کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سیاروں کے ماہر مائیکل لیمب، جنہوں نے اس مطالعے کی ٹیم کی قیادت کی، نے کہا کہ مریخ پر شمالی سمندر، اگر موجود تھا، تو وہ عرصہ دراز پہلے خشک ہو چکا تھا اور مریخ نے اربوں سالوں تک آتش فشانی سرگرمیوں اور ہوا کے کٹا کا سامنا کیا ہے۔ اس لیے قدیم جغرافیائی خدوخال کی تشریح کرنا آسان کام نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تاہم، ہماری تحقیق ساحلی ڈھلوان کی موجودگی کی کچھ واضح علامات دکھاتی ہے۔ یہ ڈھلوان اسی علاقے میں واقع ہے جہاں وہ ساحل موجود ہیں جن کی شکل بدل چکی ہے اور جہاں سائنسدان پہلے ہی دریاں کے ڈیلٹا اور دیگر ایسے خدوخال کے نقشے بنا چکے ہیں جو خشکی سے سمندر کی طرف منتقلی کی علامت ہیں۔لیمب نے کہا کہ یہ تمام شواہد مل کر ایک قدیم سمندر کے وجود کے مفروضے کو تقویت دیتے ہیں۔ یہ ایسا سمندر ہوسکتا ہے جو طویل عرصے تک برقرار رہا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مریخ ماضی میں آج کے مقابلے میں زمین سے کہیں زیادہ مشابہ تھا۔ سمندر کی موجودگی اس بات کو سمجھنے میں ایک اہم عامل ہوگی کہ آیا مریخ پر کبھی زندگی کے ظہور کے لیے سازگار حالات موجود تھے۔محقق عبد اللہ زکی نے کہا کہ اگر مریخ پر کسی زمانے میں ایسا سمندر موجود تھا جس نے طویل ارضیاتی ادوار تک سیارے کے تقریبا ایک تہائی حصے کو ڈھانپ رکھا تھا تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی سطح کے ایک بڑے حصے پر مسلسل پانی موجود تھا جو زندگی کے لیے ایک بنیادی عنصر ہے۔ اس کا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں کہ مریخ پر زندگی موجود تھی لیکن یہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ رہنے کے قابل ماحول شاید اس سے کہیں زیادہ وسیع اور طویل العمر تھا جتنا کہ اس صورت میں ہوتا اگر پانی صرف مختصر مدت کے لیے یا صرف محدود علاقوں میں موجود ہوتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed