وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان، علمی وقار، تنظیمی استحکام اور شاندار نتائج

مولانا مجاہد خان ترنگزئی
میڈیا کوآرڈینیٹر
وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان

دینی تعلیم کے وسیع و روشن افق پر اگر آج کسی نوخیز مگر باوقار تعلیمی ادارے کا نام تیزی سے ابھرتا دکھائی دیتا ہے تو وہ وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان ہے۔ قلیل مدت میں جس استقامت، نظم و ضبط اور حکمت عملی کے ساتھ اس بورڈ نے اپنے تعلیمی و انتظامی سفر کا آغاز کیا اور پھر اسے کامیابی کی شاہراہ پر گامزن رکھا، وہ یقیناً قابلِ تحسین بھی ہے اور اہلِ علم کے لیے باعثِ اطمینان بھی۔ وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان نے اپنے قیام کے ابتدائی ایام ہی میں یہ ثابت کر دیا کہ اگر قیادت بصیرت افروز ہو، نظم و نسق مضبوط ہو اور کارکنان خلوصِ نیت کے ساتھ میدانِ عمل میں سرگرم ہوں تو مختصر مدت میں بھی بڑے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کامیابی کے پس منظر میں استاد محترم قائد انقلاب قرآنی صدر وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان شیخ القرآن والحدیث مولانا محمد طیب طاہری حفظہ اللہ کی مدبرانہ قیادت، حکیمانہ رہنمائی اور مستقبل بین بصیرت کا کردار نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان آج اس مقام پر کھڑا ہے جہاں اس کی تعلیمی کارکردگی، انتظامی مہارت اور امتحانی نظم و ضبط کو دینی حلقوں میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ دینی مدارس کے اس نو تشکیل شدہ بورڈ نے جس برق رفتاری کے ساتھ نصاب سازی، انتظامی ڈھانچے کی تشکیل، ریکارڈ کیپنگ اور امتحانی نظام کو ترتیب دیا، وہ بلاشبہ ایک قابلِ تقلید مثال بن چکا ہے۔یہ تمام کامیابیاں دراصل اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور مخلص کارکنان کی بے لوث محنت کا ثمر ہیں۔ خصوصاً ڈائریکٹر وحدت المدارس الاسلامیہ انجینئر محمد اسماعیل اور دیگر ذمہ داران کی شبانہ روز جدوجہد نے اس ادارے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا اور ایک مربوط تعلیمی نظام کی شکل دی۔امسال وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے سالانہ امتحانات 1447ھ نے اس بورڈ کی تنظیمی صلاحیتوں کو مزید نمایاں کر دیا۔

ملک بھر سے تقریباً 59 ہزار طلبہ و طالبات نے امتحانات میں شرکت کی، جبکہ خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت تمام صوبوں میں امتحانات نہایت شفاف، منظم اور پُرامن ماحول میں منعقد ہوئے۔مرکزی امتحانی کمیٹی نے امتحانات کے انعقاد سے قبل پورے ملک کے مختلف ڈویژنز میں تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا، جہاں نگرانان، نائب نگرانان اور معاونین کو امتحانی قواعد و ضوابط، پرچہ ترسیل اور دیگر انتظامی امور کے حوالے سے تفصیلی تربیت فراہم کی گئی۔ یہی منظم منصوبہ بندی امتحانی نظام کی کامیابی کا بنیادی سبب ثابت ہوئی۔ امتحانات کو دو مراحل میں منعقد کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں شعبہ ناظرہ، ترجمہ اور حفظ القرآن کے امتحانات 29 دسمبر سے 31 دسمبر تک منعقد ہوئے، جبکہ دوسرے مرحلے میں شعبہ درسِ نظامی و فنون کے امتحانات 10 جنوری سے 15 جنوری تک جاری رہے اور بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوئے۔

قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ پورے ملک میں امتحانات نہایت مثالی نظم و ضبط کے ساتھ منعقد ہوئے اور کسی بھی ضلع سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ ہر ضلع کے مسؤل حضرات مرکزی امتحانی کمیٹی کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے اور امتحانی امور کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ فراہم کرتے رہے۔امتحانی نظام کی اس کامیابی میں بورڈ کے مخلص کارکنان اور نگران عملہ کا کردار بھی نہایت اہم رہا، جنہوں نے اس خدمت کو محض انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ دینی و جماعتی فریضہ سمجھ کر انجام دیا۔ طلبہ و طالبات نے بھی امتحانات میں مثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بورڈ کی نیک نامی میں اضافہ کیا۔
اسی طرح مختلف جامعات کے اعلیٰ عہدیداران اور انتظامی افسران نے بھی امتحانی مراکز کا دورہ کیا اور وحدت المدارس الاسلامیہ کے منظم امتحانی نظام، شفافیت اور نظم و ضبط کو سراہا۔ پرچوں کی جانچ پڑتال کا مرحلہ بھی نہایت دیانتداری اور احتیاط کے ساتھ مکمل کیا گیا اور بالآخر سالانہ امتحانات 1447ھ / 2026ء کے شاندار نتائج کا اعلان کر دیا گیا۔ مرکزی دفتر جامعۃ الامام محمد طاہر دارالقرآن پنج پیر ضلع صوابی میں منعقدہ تقریب کے دوران صدر وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان شیخ القرآن والحدیث مولانا محمد طیب طاہری، ڈائریکٹر انجینئر محمد اسماعیل اور ناظم مرکزی دفتر سید ادریس شاہ نے نتائج کا باضابطہ اعلان کیا۔
میڈیا سیل کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ملک بھر سے مختلف شعبہ جات میں شریک ہونے والے 59 ہزار طلبہ و طالبات کا مجموعی نتیجہ 93 فیصد رہا، جو ایک شاندار اور قابلِ فخر کامیابی ہے۔
ملکی سطح پر نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ میں مدرسہ اشرفیہ خوازہ خیلہ ضلع سوات کے درجہ ثانویہ عامہ کے طالب علم گران باچا اور جامعہ تبلیغ القرآن والسنہ خال ضلع دیر پائین کے طالب علم جابر خان نے اول پوزیشن حاصل کی۔
مدرسہ اشرفیہ خوازہ خیلہ ضلع سوات کے طالب علم عثمان اور مدرسہ دارالقرآن باروڑی چکدرہ ضلع دیر پائین کے طالب علم ابو ہریرہ نے دوم پوزیشن حاصل کی۔
جبکہ جامعہ دارالعلوم تبلیغ القرآن والسنہ واڑئی ضلع دیر بالا کے طالب علم نوید اللہ اور جامعہ تعلیم القرآن خال ضلع دیر پائین کے عالمیہ سال دوم کے طالب علم مجید اللہ نے سوم پوزیشن حاصل کی۔

شعبہ بنات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی طالبات میں:
مدرسہ یسیرۃ للبنات ٹوپی ضلع صوابی کی درجہ خاصہ اول کی طالبہ علمہ میمونہ فاروق، مدرسہ نمرہ للبنین والبنات فیض آباد ضلع سوات کی طالبہ علمہ سویرا اور مدرسہ مصباح العلوم جامعہ عائشہ صدیقہ رض للبنات ضلع منڈی بہاؤ الدین کی طالبہ علمہ اتقیٰ جبین نے اول پوزیشن حاصل کی۔
مدرسہ نمرہ للبنین والبنات فیض آباد ضلع سوات کی طالبہ علمہ سدرا نے دوم جبکہ جامعہ نمرہ للبنات محلہ بجلی گھر ضلع دیر بالا کی طالبہ علمہ کائنات رحیم نے سوم پوزیشن حاصل کی۔

دیگر تمام درجات کے نتائج ادارے کی آفیشل ویب سائٹ جبکہ سہولت کے لیے پلے اسٹور پر وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان کے نام سے موبائل ایپلیکیشن بھی متعارف کرائی جا چکی ہے۔ صدر وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان نے شاندار نتائج پر کامیاب ہونے والے تمام طلبہ و طالبات، اساتذہ کرام اور منتظمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس کامیابی کو اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل قرار دیا اور مزید کامیابیوں کے لیے دعا کی۔
ملکی سطح کے پوزیشن ہولڈرز کو تقریب میں نقد انعامات اور کتاب “حیاتِ طیب” سے نوازا گیا، جبکہ صوبائی سطح کے نمایاں طلبہ و طالبات کو سالانہ عالمی اجتماع پنج پیر میں انعامات دیے جائیں گے۔ بلاشبہ آج یہ منظر اس خواب کی عملی تعبیر ہے جس کی بنیاد شیخ العرب والعجم شیخ القرآن مولانا محمد طاہر نور اللہ مرقدہ نے اپنے مدارس کے ایک مضبوط تعلیمی بورڈ کی صورت میں رکھی تھی۔ آج ہر کارکن کے چہرے پر وحدت المدارس الاسلامیہ کی کامیابی کی خوشی نمایاں ہے اور امیرِ محترم کی مدبرانہ قیادت پر فخر محسوس کیا جا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ وحدت المدارس الاسلامیہ پاکستان کو مزید استحکام، وسعت اور کامیابی عطا فرمائے اور اس عظیم دینی مشن کو علم و ہدایت کا روشن مینار بنائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed