بلغاریہ میں 20ویں صدی میں پیدا ہونے والی مشہور نابینا نجومی بابا وانگا کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے گزشتہ چند دہائیوں میں تاریخ کے دھارے کو بدلنے والے بڑے عالمی واقعات کی درست پیش گوئی کی تھی اور ان میں سے کئی پیشگوئی درست بھی ثابت ہوئی اگرچہ بڑی تباہیوں اور جنگوں کے بارے میں وانگا کی پیشین گوئیاں عام طور پر میڈیا کی سرخیاں بنتی ہیں،تاہم ان کی ایک غیرمعروف لیکن اتنی ہی اہم پیشگوئی سامنے آئی ہے جو اس کرہ ارض پر تقریبا ہر مرد، عورت اور بچے کو متاثر کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ اگر میڈیا رپورٹس کی مانیں تو بابا وانگا نے مبینہ طور پر موبائل فونز کے حوالے سے بھی زبردست پیشگوئی کی تھی، ان کی یہ پیشگوئی تھی کہ مستقبل قریب میں لوگ روزمرہ کے کاموں کو آسان بنانے کے لیے چھوٹے آلات پر انحصار کرنے لگیں گے ایک وقت آئے گا جب یہ ڈیوائسز جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ آج کے موبائل ڈیوائسز جیسے اسمارٹ فون وغیرہ انسانی رویوں کو بدل دیں گے اور رشتوں پر اثر انداز ہوں گے۔ یہ ڈیوائسز ارتکاز کی طاقت کو کم کر دیں گے اور خاص طور پر بچوں میں دماغی صحت کے مسائل پیدا کریں گے۔ بابا وانگا نے پیش گوئی کی تھی کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس چھوٹے الیکٹرانک گیجٹ پر انسان کا انحصار بڑھتا جائے گا اور وہ حقیقی رشتوں سے خود کو دور کرنے کا سبب بنے گا، یہ عالمی سطح پر ہر فرد کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈالے گا۔ اگرچہ اسمارٹ فونز جیسے موبائل آلات نے بلاشبہ آج کی جدید دنیا میں ہماری زندگیوں کو آسان بنا دیا ہے لیکن ٹیکنالوجی کے کسی بھی دیگر عوامل کی طرح اسکا بھی ایک بہت بڑا منفی پہلو ہے۔ موبائل فون کی لت ایک ایسا سنڈروم ہے جو خاص طور پر بچوں اور نوعمر لڑکے، لڑکیوں میں کسی وبائی امراض کی طرح پھیل چکا ہے۔







