پی ایس بی پنشن کیس’ وکیل پر عدالت کو گمراہ کرنے کا الزام

پاکستان اسپورٹس بورڈ(پی ایس بی)کے 250 سے زیادہ معمر پینشنرز، بیوائوں اور یتیموں کی پنشن بندش کے خلاف دائر آئینی رٹ پٹیشن میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہونے والی حالیہ سماعت کے دوران، پی ایس بی کے وکیل نے معزز عدالت کو مبینہ طور پر گمراہ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وہ اس کیس میں بالکل نیا ہوں اور انہیں وقت دیا جائے، جبکہ حقائق کے مطابق مذکورہ کونسل گزشتہ کئی برسوں سے ماہانہ ریٹینر شپ (Retainer ship) پر پاکستان اسپورٹس بورڈ کے مستقل وکیل کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ عدالتِ عالیہ نے اس مبینہ دھوکہ دہی کا سخت نوٹس لینا چاہیے پی ایس بی کونسل کو دو ہفتوں کے اندر ہر صورت اپنا وکالت نامہ اور تحریری جواب جمع کروانے کا حکم دیا ھے کیس کی اگلی تاریخ 28 اکتوبر 2026 مقرر کر دی ہے۔ ذاتی پسند ناپسند اور تادیبی کارروائی کا ثبوت: پینشنرز ایکشن کمیٹی کے مطابق، بیوروکریسی نے گزشتہ 20 سالوں کے دوران چوتھی مرتبہ بزرگ شہریوں کی پینشن روکنے کی غیر قانونی کوشش کی ہے۔ حیرت انگیز طور پر ہر مرتبہ بیوروکریسی 1984 اور 2015 کے پرانے آفس میمورنڈم (OM) کا سہارا لیتی ہے اور ہر مرتبہ پینشنرز کے شدید احتجاج اور قانونی کمزوری کے باعث خود ہی پینشن بحال کر دیتی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پینشن کی بندش کا کوئی قانونی جواز نہیں بلکہ یہ محض بیوروکریسی کی ذاتی پسند ناپسند اور ہٹ دھرمی پر مبنی ہے۔ جب ادارہ 2006 سے 2025 تک (20 سال) سے پینشن ادا کر رہاھیاور پینشن کے متعلق دوسرے نوٹیفیکیشن جاری کرتا رہا اور مجاز فورمز (PSB Board) کی منظوری سے کروڑوں روپے کے فنڈز "ملازمین کے ریٹائرمنٹ فوائد” کے ہیڈ میں جاری ہوتے رہے، تو اب یہ ایک آئینی اور قانونی حق (Vested Right) بن چکا ہے جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ بزرگ پینشنرز کے لیے پیغامِ حوصلہ اور امید: اگرچہ 28 اکتوبر کی لمبی تاریخ پر معمر پینشنرز اور بیواں میں مایوسی پھیلی ہے، لیکن ایکشن کمیٹی کے معزز اراکین نے 60 سے 80 سال کی عمر کے ان بزرگوں کو پیغام دیا ہے کہ عدالتِ عالیہ دراصل قانون کے تمام تقاضے (Codal Requirements) پورے کر رہی ہے تاکہ بیوروکریسی کو بھاگنے کا کوئی راستہ نہ ملے۔ اس کمر توڑ مہنگائی کے دور میں جب گھر کا چولہا جلانا اور ادویات خریدنا ناممکن ہو چکا ہے، بزرگ پینشنرز کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ حق اور سچ کی یہ جنگ اپنے آخری مراحل میں ہے۔ چونکہ حکومتِ پاکستان کا آفیشل گزٹ نوٹیفکیشن آج بھی قانونی طور پر نافذ العمل ہے، اس لیے قوی امید ہے کہ معزز ہائی کورٹ اگلی پیشی پر ان بزرگوں کی حالتِ زار اور ہسپتالوں میں زیرِ علاج ساتھیوں کی نازک صورتحال کے پیشِ نظر فوری عبوری ریلیف (Interim Relief) جاری کر کے پینشن بحال کرنے کا حکم دے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed