پشاورہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے چترال کے مقامی افراد کی زمینیں حکومتی ملکیت قراردینے کے خلاف دائر رٹ پٹیشنز پردلائل مکمل ہونے پرتمام درخواستیں نمٹادی ہیں جبکہ تفصیلی تحریری فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا ۔مذکورہ درخواستیں گزشتہ 6سال سے ہائیکورٹ میں زیرسماعت تھیں۔ جسٹس وقار احمد اور جسٹس خورشید اقبال پر مشتمل دورکنی بنچ نے سابق ایم پی اے غلام محمد، سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین ، عنایت اسیر وغیرہ کی درخواستوں پر سماعت کی۔ اس دوران درخواست گزاروں کے وکلابیرسٹر اسد الملک، ڈاکٹر عدنان خان، محب اللہ تریچوی، وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل گوہر رحمان خٹک اور صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مزمل خان پیش ہوئے۔درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ دیر،چترال اور سوات ایڈمنسٹریشن ریگولیشن 1969کے تحت چترال کا علاقہ بھی 1969میں پاکستان میں ضم ہوا ، اس دوران چترال کی زمینی تنازعہ پر انکوائری کمیشن تشکیل دی گئی جس نے حکومت اور مقامی افراد کے درمیان ان زمینوں کی ملکیت کا تعین کیا تاہم جو زمینیں متنازعہ نہیں تھی اس حوالے سے کمیشن بھی خاموش رہا۔ رٹ کے مطابق 1975میں ہوم اینڈ ٹرائیبل آفیئرز ڈیپارٹمنٹ نے نوٹیفیکیشن جاری کرکے لوگوں کی زمینوں کو قانونی تحفظ دیا البتہ تمام پہاڑوں، جنگل، چراگاہ،شکارگڑھ اور ویسٹ لینڈ وغیرہ کو حکومتی ملکیت قراردیاگیا۔اس دوران بیرسٹراسدالملک نے دلائل دیئے کہ کچھ سال قبل صوبائی حکومت نے ایک فیصلے کے ذریعے چترال کی 97فیصد زمینیں اپنی ملکیت میں لے لی جس پر مقامی افراد نے 2019میں پشاورہائیکورٹ سے رجوع کیاعدالت نے حکم امتناع جاری کرکے حکومت کو فیصلے پر عملدرآمد سے روک دیا تھا۔گزشتہ روز عدالت نے وکلاسمیت تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر رٹ درخواستیں نمٹا دی ہیں جبکہ ہائیکورٹ کی جانب سے تفصیلی تحریری رپورٹ آنے پرصوبائی حکومت کی جانب سے لینڈ سیٹلمنٹ سے متعلق کیس کے فیصلے کے حوالے سے حقائق سامنے آسکیں گے







