بھارت نے دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے پر بگلیہار اور سلال ڈیم کے اسپل ویز کھول دئیے اور پاکستان کو ہائی کمیشن کے ذریعے ممکنہ سیلاب سے مطلع کر دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق شدید بارش کے سبب دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے پر بگلیہار ڈیم کے اسپل ویز کھول دئیے گئے، دریائے چناب پر بنے سلال ڈیم کے دروازے بھی کھول دیئے گئے۔بھارتی میڈیا کا کہناہے کہ بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کے سبب دریائے چناب میں طغیانی ہے۔دوسری جانب بھارت نے ایک بار پھر ہائی کمیشن کے ذریعے پاکستان کو سیلاب کے حوالے سے آگاہ کر دیا۔بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے حکومت پاکستان کو بھیجے گرئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ دریائے ستلج میں ہریکے زیریں اور فیروزپور زیریں میں پانی چھوڑنے چھوڑا جا رہا ہے۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سیلابی پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب ہو گا۔وزارت آبی وسائل نے بھارتی مراسلے کے بعد فلڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ دوسری جانب بھارت میں دریائے جمنا میں پانی63سالوں میں تیسری بلند ترین سطح تک پہنچ گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ہتھنی کنڈ بیراج سے پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے جمنا میں پانی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے جس کے باعث نئی دہلی کے نشیبی علاقوں میں قائم ریلیف کیمپس بھی ڈوب گئے ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دریا میں پانی کی سطح 207 میٹر تک بلند ہوگئی ہے، جو 1963 میں منظم ریکارڈ رکھنے کے آغاز کے بعد سے تیسری بلند ترین سطح ہے۔پانی کی بلند سطح کی وجہ سے دریا کے قریب بسنے والی آبادی زیر آب آگئی جس کے باعث 12 ہزار کے قریب لوگوں کو اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقام پر منتقل ہونا پڑا۔اس کے علاوہ گزشتہ روز بھی نئی دہلی میں تیز بارش ہوئی جس کی وجہ سے ٹریفک شدید متاثر ہوا اور کئی علاقے سیلابی پانی میں ڈوب گئے۔ واضح رہے بھارت کی بیشتر ریاستوں میں مون سون کا سیزن جاری ہے جس کے سبب بادل پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب اور بجلی گرنے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔







