خیبر پختوانخوا کے پانچ اضلاع کو اس وقت موسمیاتی تبدیلیو کی وجہ سے شدید خطرات کا سامنا ہے جس میں گلیشیر پٹھنے کے واقعات نے ان خدشات کو درست ثابت کیا ہے تاہم این ڈی پی گلاف 2 پراجیکٹ ان علاقوں کے 7 لاکھ افراد کوخدمات فراہم کر رہی ہیں۔ تا کہ اضلاع کے رہاٸشیوں کو گلیشیر پٹھنے کے دوران جانی اور مالی نقصانات کم کۓ جاسکیں۔اس حوالے سے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے نماٸندے راشد خان کے مطابق گلاف ٹو پروجیکٹ کے تحت اٹھاۓ گۓ اقدامات اور سیلاب کے خطرے سے دوچار وادیوں میں مقامی کمیونٹیز پر پروجیکٹ کے اثرات کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔گلاف ٹو پراجیکٹ”شمالی پاکستان میں گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (گلاف) کے خطرے میں کمی“ کے عنوان سے ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد خطے میں برفانی جھیل کے سیلاب سے منسلک خطرات کو کم کرنا ہے۔ یہ منصوبہ برفانی علاقوں میں رہنے والی مکینوں کی صلاحیتوں بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔منصوبہ گرین کلائمیٹ فنڈ (جی سی ایف) کے ذریعے 36.9ملین امریکی ڈالر کے بجٹ اور گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے 5 لاکھ امریکی ڈالر کے اضافی بجٹ کے ساتھ شروع کیا گیا ہے، جو ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی اور قومی دونوں فریقوں کی جانب سے مضبوط عزم کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلاف ٹو پروجیکٹ نے 696,342 افراد تک خدمات فراہم کیں اسکے علاوہ خیبر پختونخواہ (کے پی) کے5 اضلاع کی 8 وادیاں اور گلگت بلتستان (جی بی)10اضلاع میں 16وادیوں میں کام کر رہا ہے۔ پراجیکٹ کے تحت صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) اور ریسکیو 1122کے ذریعے فرضی مشقیں، گلاف کی صورت میں آگاہی پر تربیتی سیشن، گلاف سمولیشن اسٹڈی، مون سون اور موسم سرما کے ہنگامی منصوبے، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ پلان اور رسک اسسمنٹ اسٹڈی جیسے موضوعات پر تربیت دی گئی اسکے ساتھ ساتھ پراجیکٹ نے برفانی جھیل کے پھٹنے والے سیلاب سے منسلک خطرات کو کم کرنے کیلئے متعدد طریقوں کو اپناۓ ہیں۔ جن میں آبپاشی کے لۓ ابی گزر کاہیں ،حفاظتی دیواریں،ابتدائی وارننگ سسٹمز،ڈھلوان استحکام، شجرکاری،ٹریکس،پی ایم ڈی آبزرویٹریوں کی تزئین و آرائش،محکمہ جنگلات کیلئے تحفظاتی مقامات کی تزئین و آرائش، کمیونٹی کی سطح پر آفات کے خطرے سے نمٹنے کیلئے مراکز کا قیام،محفوظ پناہ گاہیں،رسائی کا راستہ،واٹر شیڈز،گورنمنٹ سکولوں میں گرین کلائمیٹ کلبز کی تشکیل،کچن گارڈننگ، کمیونٹی کیلئے فرضی مشقیں،گلاف رسک پر کمیونٹی کے لیے آگاہی سیشن، برفانی جھیل کے پھٹنے والے سیلاب کے خطرات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کیلئے تعلیمی سیشن،آئس اسٹوپا کی تعمیر اوکمیونٹیز کو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھالنے میں مدد کیلئے منصوبوں کو تیار کرنا اور ان پر عمل درآمد کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ راشد خان کے مطابق ڈیجیٹل صحافت کی اخلاقیات، کہانی سنانے، ملٹی میڈیا رپورٹنگ، بیانیہ صحافت، تخلیقی فارمیٹس، شوٹنگ کی تکنیک اور صحافیوں کی حفاظت اور تحفظ کے بارے میں بھی تربیت دی گئی۔جبکہ صحافیوں نے 2022 ء کے سیلاب کے دوران اپنے اپنے تجربات شیئر کئے اور گلاف ٹو پراجیکٹ کے تخت اقدامات کو مذید توسیع دینے پر زور دیا۔







