صحافیوں کی پشاور تا اٹک خورد ٹرین سفاری

رپورٹ : محمد داود ،شعیب جمیل, اسد خان

صحافی جو اپنی پیشہ ورانہ خدمات کے باعث بہت ہی مصروف زندگی گزارتے ہیں ذہنی سکون کیلئے کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تاکہ وہ اپنی یکسانیت بر مبنی ڈیوٹی سے ہٹ کر لطف اندوز ہو سکیں ۔ ایسا ہی ایک موقع گزشتہ روز پشاور پریس کلب نے انہیں فراہم کیا جس سے صحافیوں نے خوب لطف اٹھایا ۔صحافیوں کیلئے پشاور کینٹ سٹیشن سے اٹک خورد کی تاریخی ریلوے سٹیشن تک ٹرین سفاری کا اہتمام کیا گیا جس میں چالیس کے قریب صحافیوں نے حصہ لیا اوردر یائے سندھ کی موجوں اور یخ بستہ ہوائوں سے لطف اندوزہوئے۔

ہفتہ کے روز کینٹ ریلوے سٹیشن پشاور سے پریس کلب کے صدر ارشد عزیز ملک اور ڈی ایس مقصود احمد نے چیئرمین شہزاد احمد ، ٹورکمیٹی کے ممبران محمد دائود ،طاہر وسیم اور اسدخان کی قیادت میں صحافیوں کو مختصر بات کے بعد رخصت کیا ۔ اس موقع پر پشاور پریس کلب کے صدر ارشد عزیز ملک نے کہا کہ پریس کلب صحافیوں کو گاہے گاہے سیر سپاٹے کے مواقع بھی فراہم کر تاہے تاکہ وہ مصروف ترین شیڈول سے باہر نکل کر لطف اندوز ہو سکیں انہوں نے محکمہ ریلوے اور ڈی ایس مقصود احمد کا صحافیوں کیلئے ٹرین سفاری کے اہتمام پر ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا جبکہ ڈی ایس مقصود احمد نے بھی صحافیوں کیلئے اچھے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے اب بہتر ی کی جانب گامزن ہے اور موجودہ حکومت کی کوششوں سے اب شہریوں نے دوبارہ اس قومی سروس کی جانب رخ کیا ہے اور اس کی سہولیات سے فائدہ اٹھارہے ہیں جو اس پر شہریوں کے اعتماد کا مظہر اور اس میں وقت گزرنے کیساتھ ساتھ مزید اضافہ ہو گا۔

پشاور پریس کلب کا وفد ڈیڑھ گھنٹہ کی مسافت کے بعد جب اٹک خورد ریلوے سٹیشن پہنچا تو وہاں پر موجود سٹیشن ماسٹر محمد احمد جہانگیر نے اپنے سٹاف کے ہمراہ پشاور کلب کی ٹور کمیٹی کے چیئرمین شہزاد احمد کو سہرا پہنا یا اور صحافیوں کا پر تپاک استقبال کیا ۔ اس موقع پر صحافیوں کیلئے چائے اور ظہرانے کا اہتمام بھی کیا گیا ‘جس سے صحافی خوب لطف اندوز ہو ئے ۔ سٹیشن ماسٹر ایم اے جہانگیر نے صحافیوں کو اٹک ریلوے سٹیشن اور تاریخی پل کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ اٹک ریلوے سٹیشن پاکستان کے صوبہ پنجاب کے آخری سرحدی ضلع اٹک کے قصبہ اٹک خورد اور خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے قصبہ خیرآباد کنڈ کے درمیان دریائے سندھ پر سلطنت برطانیہ کا تعمیر کردہ ایک شاہکار آہنی پل جس کا خاکہ سر گلفورڈ لنڈسے مولسورتھ (1925-1828) نے تیار کیا اور جسے 1880 میں ایک برطانوی جہازراں اور انجینئری کمپنی ویسٹ وڈ بائیلی نے تعمیر کیا۔

اس وقت اس پر 32 لاکھ روپے سے زائد کی لاگت آئی۔ 1884 کو اسے عام استعمال کیلئے کھول دیا گیا۔1926 سے 1929 کے دوران 25 لاکھ روپے کی لاگت سے اسے مزید بہتر کیا گیا اس بار اس پر سر فرانسس نے کام کیا۔ یہ پل اپنی تعمیر کے لحاظ سے خطے میں منفرد حیثیت رکھتا ہے اس کے دو حصے ہیں اوپر والے سے ریل گاڑی اور اور نیچے والے حصے سے موٹر گاڑیاں گزرتی ہیں۔ اس کے دونوں سروں پر مضبوط آہنی گیٹ لگے تھے جو کبھی رات کو بند کر دئیے جاتے اور صبح کھولے جاتے تھے۔ ایک زمانے تک یہ پل جرنیلی سڑک (جی ٹی روڈ)کا حصہ رہا جو 1979 ء میں ایک نئے پل کی تعمیر کے ساتھ اٹک خورد سے براہ راست خیرآباد کی طرف نکل گئی۔

اس سے پہلے یہ اکبر کے قلعہ اٹک بنارس کے ساتھ گھومتی اکبر ہی کے بسائے قصبے ملاحی ٹولہ سے گزرتی پرانے پل کی طرف جاتی تھی۔عرف عام میں اسے اٹک کا پرانا پل کہا جاتا ہے۔ایک سو تیس برس سے زائد گزر جانے کے باوجود یہ پل اسی طرح ریل گاڑی اور موٹر کاروں کو دریا پار کروا رہا ہے جیسے کل ہی بنا ہو اور آج کے حکمرانوں اور انجینئروں کو دعوت فکر دے رہا ہے۔ اس موقع پر صحافیوں کو ریلوے سٹیشن میں قائم میوزیم کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی اور انہیں قدم الارمنگ سسٹم اور ٹیلی فونک پرنٹر اور پیغام رسانی کے الات کے بارے میں بریفنگ دی گئی جس میں صحافیوں نے گہر ی دلچسپی کا اظہار کیااور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کئے ۔

یاد رہے کہ اٹک خورد سٹیشن پر حال میں سفاری ٹرین سروس کا آغاز بھی کیا گیا جس سے عام شہری بھی معقول کرایہ ادا کر کے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور اگر وفاقی کی جانب مزید اقدامات کئے جائیں تو اس مقام کو ایک مکمل پکنک سپاٹ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ اگر اٹک خورد پل کے آس پاس دریا کنا رے لانچ سروس شروع کی جائے اور ہٹ بنائے جائیں تو اس سے ریلوے کو بہتر کمائی بھی ہو سکتی ہے ۔ اس مقام کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں پر پورا دن تیز ہوائیں چلتی رہتی ہیں جس سے شدید گرمی کا احساس بھی نہیں ہو تا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مقام پربہتر ین سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ بیرون ممالک سے آنیوالے سیاحوں کو بھی اس جانب راغب کیا جاسکے ۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed