انتخابات کی تاریخ کا معمہ !

دو صوبوں میں الیکشن کے لئے تاریخ دینے کے ازخود نوٹس لینے کا کریڈٹ چیف جسٹس کو جاتا ہے تاہم اصل معاملہ اس نوٹس پر عمل درآمد کرنے کا ہے جس میں خصوصی طور پر گورنر خیبر پختونخوا لیت و لعل سے کام لے رہے اور ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ عدالت کے حکم پر عمل در آمد کریں گے ۔ اس لئے جلد یا بدیر انہیں یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ انتخابات ناگزیر ہو چکے ہیں اس کے بغیر صوبوں کا نظام نہیں چل رہا ہے اس لئے یہ ان کی جماعت کے مفاد میں بھی ہے کہ جلد انتخابات کر لئے جائیں ۔ ادھر اچھی بات یہ ہے کہ آئین اپنا راستہ اختیار کر رہا ہے اور یہ ایک اچھا شگون ہے کہ سٹیک ہولڈرز اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کے لیے پر طول رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے تحلیل شدہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 90 دن کے اندر کرانے کے 5-3 کے تاریخی فیصلے کے پس منظر میں الیکشن کمیشن کے ایوان صدر کو لکھے گئے خط نے بال رولنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اگر کوئی انتظامی ضرورت ہو تو مقررہ 90 دنوں کے اندر انتخابات کی تاریخوں کو چھانٹنے میںکوئی دیر نہیں لگانی چاہیے ۔ انتخابی نگرانی کی اپنی مشینری کو تیار کرکے فوری آ ئوٹ پٹ اور اس کے نتیجے میں ریاست کے سربراہ کی طرف سے 30 اپریل (اتوار)کو پنجاب میں پولنگ کے دن کے طور پر نشان زد کرنے نے کسی ماورائے آئین غلط مہم جوئی کی افواہوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ اب تمام نظریں خیبرپختونخوا پر لگی ہوئی ہیں جہاں گورنر صوبے میں انتخابات کی تاریخ کی پیروی کے لیے صدر کے ساتھ رابطہ کر رہے ہیں اور امید ہے کہ جلد یہ رابطہ قائم ہو جائے گا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں کوئی آئینی بحران نہیں ہے بلکہ اس کو پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو ان سیاسی جماعتوں کی کمزور اور انکے پاس ملک چلانے کے لئے کوئی پروگرام نہ ہونے کا نتیجہ ہے جس سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔ ان مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے عدلیہ نے اس اہم قومی معاملے میں خود دخل دینے کا فیصلہ کیا ہے جس پر عدلیہ کی بہت واہ واہ ہو رہی ہے ۔ ازخود نوٹس لینے کا کریڈٹ چیف جسٹس کو جاتا ہے اور انہوں نے پوری خوش اسلوبی اور عاجزی کے ساتھ عوامی نمائندگی کی بنیادی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مختصر مخالف بیانات کے باوجوداب انتخابی مہم کی دوڑ میں شامل ہیں۔ اس سے جمہوریت مضبوط ہوئی ہے اور اسی طرح الیکشن کمیشن نے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داری پوری کی ہے۔ اس سنگِ میل کو آئین کی روح کو برقرار رکھنے اور قانون کی بالادستی کے لیے ایک ورکنگ ریلیشن شپ تیار کر نے کا عمل سیکھنے کی ضرورت ہے چاہے یہ معمولی ذاتی مفادات سے متصادم ہی کیوں نہ ہو۔اس حوالے سے صدر کے نام الیکشن کمشنر کے خط کا ایک اقتباس قابل غور ہے۔ اس میں کہا گیا کہ”…ممکنہ طور پر قانون کی غلط فہمی کی وجہ سے ای سی پی نے خود کو الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 57(1) کے تحت مشاورت کے لیے دستیاب نہیں کرایا…” یہ ایک خوش آئند ازخود تصحیح ہے۔ یہ قانون کے مطابق اور آئین کے حکم کے تحت پارلیمانی اصولوں کو فروغ دینے میں ایک طویل سفر طے کرے گا۔ اس کی شدید ضرورت تھی امید ہے کہ جب ادارے اپنی ذمہ داری لیکر اس طرح کام شروع کردیں گے تو یقینی طورپر جمہوریت مضبوط ہو گی۔ ادھر سیاسی پارٹیوں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنے کی ضرورت ہے اور غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کرنے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ ملک صحیح معنوں میں جمہوریت کی راہ پر گامزن ہو سکے ۔md.daud78@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed