ایشیا پیسیفک خطے میں مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے میڈیا کے کردار پر غور کرنے کے لیے 42 ممالک اور خطوں سے میڈیا اداروں، تھنک ٹینکس، حکومتی محکموں، جامعات، اقوام متحدہ کے اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے 400 سے زائد نمائندے 5 ستمبر کو شینزن میں ایشیا پیسیفک میڈیا فورم میں جمع ہوئے۔ شرکا نے اس امر پر خیالات کا تبادلہ کیا کہ میڈیا کس طرح زیادہ کھلی، جدت پسند اور باہمی تعاون پر مبنی ایشیا پیسیفک کمیونٹی کے قیام میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ایشیا پیسیفک کمیونٹی کی مشترکہ خوشحالی کی راہ ہموار کرنا: میڈیا کا اتفاقِ رائے اور عملی اقدامات کے عنوان سے منعقدہ فورم میں علاقائی کشادگی، تکنیکی جدت، سبز ترقی اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ میں میڈیا کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔ فورم کے اہم نتائج میں شینزن اتفاقِ رائے کا اجرا بھی شامل تھا، جس میں خطے بھر میں میڈیا تعاون کے لیے مشترکہ وژن اور ٹھوس تجاویز پیش کی گئیں۔

اتفاقِ رائے میں کہا گیا کہ کشادگی، جدت اور تعاون ایشیا پیسیفک خطے میں خوشحالی کے فروغ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اس میں میڈیا اداروں پر زور دیا گیا کہ وہ مکالمے اور تبادلوں کو گہرا کریں اور عملی تعاون کو آگے بڑھائیں، جبکہ پالیسیوں میں ہم آہنگی، تجربات کے تبادلے اور خطے کی ترقی کی کامیابیوں کی وسیع تر کوریج کو فروغ دیا جائے۔اتفاقِ رائے میں میڈیا پر یہ بھی زور دیا گیا کہ وہ کشادگی کے حوالے سے اتفاقِ رائے پیدا کرے اور کثیرالجہتی تجارتی نظام کو برقرار رکھے، جبکہ علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے اور صنعتی و سپلائی چینز کے استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کرے۔ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں اتفاقِ رائے نے ڈیجیٹل، ذہین اور سبز تبدیلی کو علاقائی ترقی کے لیے اہم مواقع قرار دیا۔

اتفاقِ رائے میں میڈیا میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسے انسان مرکز سوچ اور AI کو بھلائی کے لیے استعمال کرنے کے عزم کے تحت بروئے کار لایا جائے۔ اس کے علاوہ صاف توانائی، کم کاربن والی عمارتوں اور سبز ترقی کی دیگر مثالوں کو اجاگر کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ٹیکنالوجی اور اقتصادی تعاون سے آگے بڑھتے ہوئے اتفاقِ رائے میں لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں میڈیا کے کردار پر بھی خاص زور دیا گیا۔ اس میں سچی، غیر جانب دار اور منصفانہ رپورٹنگ کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور مشترکہ رپورٹنگ، باہمی دوروں اور دیگر تعاون کے ذریعے ثقافتی، سیاحتی اور نوجوانوں کے تبادلوں کو فروغ دینے پر زور دیا گیا، تاکہ ایشیا پیسیفک کے عوام کے درمیان باہمی افہام و تفہیم، اعتماد اور دوستی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ اتفاقِ رائے فورم سے قبل گوانگ ژو، فوشان، ڈونگ گوان، شینزن، ژوہائی اور ژونگ شان کے دوروں کے دوران شرکا کے مشاہدات اور تجربات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ دی چائنیز یونیورسٹی آف ہانگ کانگ، شینزن کے اسکول آف پبلک پالیسی کے ڈین ژینگ یونگ نیان نے شینزن کی ترقی کو گلوبل ساتھ کے ممالک کے لیے بہترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ مثر پالیسیاں اور ادارے کس طرح ترقی کے عمل کو کامیابی سے آگے بڑھا سکتے ہیں۔فورم نے میڈیا اداروں کو مشترکہ خیالات کو عملی تعاون میں تبدیل کرنے کے مواقع بھی فراہم کیے۔ کینیڈین میڈیا ادارے Daily Scrum News کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ایڈیٹر ان چیف ڈونووان مارٹن سینئر نے شینزن کی تیز رفتار شہری ترقی کو سبز علاقوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ امتزاج انہیں بے حد متاثر کرتا ہے اور چینی و کینیڈین میڈیا کے درمیان مزید مکالمے اور تبادلوں پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا: ہم ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے مقابلے میں زیادہ ایک جیسے ہیں۔

عملی تعاون کی اس سوچ کا اظہار پاکستانی مین اسٹریم میڈیا ادارے Daily Kasoti اور Shenzhen Daily کے درمیان نئی شراکت داری سے بھی ہوا۔ شینزن پہنچنے کے 24گھنٹوں کے اندر ڈیلی کاوشی کے چیف ایڈیٹر امجد عزیز ملک نے شینزن ڈیلی کے ساتھ مواد کی مشترکہ تخلیق کے معاہدے پر دستخط کیے اور شینزن ڈیلی کی ڈیجیٹل تبدیلی اور بین الاقوامی ابلاغ کی صلاحیتوں کو سراہا۔
امجد عزیز ملک نے کہاکہ یہ بالکل وہی شراکت دار ہے جس کی ہم تلاش کر رہے تھے۔ دونوں اداروں نے ٹیکنالوجی کے تبادلے، مشترکہ طور پر مواد کی تیاری اور افرادی قوت کے تبادلے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت سبز ترقی اور تکنیکی جدت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔کشادگی اور جدت کے مشترکہ عزم سے لے کر میڈیا اداروں کے درمیان ٹھوس عملی تعاون تک، ایشیا پیسیفک میڈیا فورم نے ثابت کیا کہ میڈیا علاقائی ترقی کی محض رپورٹنگ تک محدود نہیں۔ مکالمے، تعاون اور عوامی سطح کے تبادلوں کے ذریعے میڈیا ایشیا پیسیفک خطے میں باہمی افہام و تفہیم، اعتماد اور مشترکہ خوشحالی کے مضبوط احساس کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔








