بڑھتی آبادی اور ایندھن کا نایاب ہوتا ذخیرہ

تحریر: عباس مہد

انسان نے اپنی ہزاروں سالہ فکری، سائنسی اور سیاسی تاریخ میں جتنے بھی غرور پر مبنی دعوے کیے، وہ سب کے سب آج اس خاموش، دردناک اور لرزہ خیز حقیقت کے سامنے دم توڑ رہے ہیں کہ اکیسویں صدی کا سب سے بڑا المیہ پرانی سرحدوں پر لڑی جانے والی ایٹمی جنگیں نہیں، بلکہ "انتروپوسین” کے اس عہد کا وہ حتمی ساختیاتی بکھراؤ ہے جہاں انسانی ہوس نے زمین کے نامیاتی نظام کو خود اپنے ہاتھوں سے مسمار کر دیا ہے۔ اکیسویں صدی کا انسان نو ارب آبادی کا ایک ایسا بوجھ بن کر اس زخمی زمین پر ایستادہ ہے جو کرۂ ارض کی برداشت کی صلاحیت کی تمام تر سائنسی اور طبیعیاتی حدوں کو پار کر چکا ہے۔ ہم ایک ایسے اندھیرے موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں جہاں ہر گزرتی سانس کے ساتھ قدرتی وسائل کا ذخیرہ ختم ہو رہا ہے اور ہمارے بچوں کا مستقبل تاریکی میں ڈوب رہا ہے۔ پرانی معاشی لغت اور صنعتی انقلاب کے بعد سے قائم جس بے رحم سرمایہ دارانہ منطق نے ہمیں یہ فریب سکھایا تھا کہ قدرتی وسائل لا محدود خزانوں کا نام ہیں، آج وہ سائنس دانوں، فکر انگیز ادیبوں اور جیو پولیٹیکل دانشمندی کے سامنے ایک خوفناک اور لرزہ خیز فریب بن کر بے نقاب ہو چکی ہے۔ یہ محض ایک ماحولیاتی تنبیہ نہیں، بلکہ انسانی تہذیب کی بقا یا مکمل ناپیدگی کا آخری اور حتمی فیصلہ کن معرکہ ہے جو ہماری آخری روح کا حساب مانگ رہا ہے۔ اگر ہم سیاسیات، ماحولیاتی فلسفے اور سائنسی شواہد کی روشنی میں اس ہولناک المیے کی گہرائی کا احاطہ کریں، تو یہ حقیقت روح کو کانپنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ عالمی سطح پر اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام پائیدار ترقی کے ۱۷ اہداف کا قائم کردہ فریم ورک دراصل کوئی روایتی کاغذی سفارشات نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کا وہ سب سے بڑا عمیق فکری اور سائنسی اعترافِ شکست تھا جس میں دنیا کو یہ ہنگامی خبر دی گئی کہ انسان نے اپنے وقتی نفع کی خاطر آنے والی سو نسلوں کی امانت کو جلا کر راکھ کر دیا ہے۔ پائیدار ترقی کے بنیادی اصولوں بالخصوص ہدف نمبر ۱۲ یعنی پائیدار پیداوار اور استعمال، اور ہدف نمبر ۱۵ یعنی زمین پر زندگی کے تحفظ کا اگر محققانہ جائزہ لیا جائے، تو کرۂ ارض کا انٹروپی نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ انسانیت اس وقت اپنے سالانہ مقررہ قدرتی وسائل کا بجٹ سال کے ابتدائی پانچ ماہ ہی میں نچوڑ کر باقی پورا سال اپنی ان معصوم نسلوں کا حق غصب کر کے جی رہی ہے جنہوں نے ابھی اس دنیا میں آنکھ بھی نہیں کھولی۔ یہ ایک ایسا نادیدہ اور بھیانک جرم ہے جس کی گواہی زمین کا ایک ایک سوکھا ہوا دریا اور زہریلی ہوتی ہوئی ہوا کا ایک ایک ذرہ دے رہا ہے، لیکن ہم اپنی اندھی معاشی دوڑ میں اس خاموش چیخ کو سننے سے قاصر ہیں۔ سائنس کا بنیادی اور مسلمہ قانونِ بقائے توانائی ہمیں چیخ چیخ کر یہ بتاتا ہے کہ زمین کے سدا بہار سینے میں لاکھوں سال کی مشقت کے بعد بننے والے ہائیڈرو کاربنز، زیرِ زمین پینے کا شفاف پانی، سدا بہار گلیشیئرز اور قدیم جنگلات کے پیچیدہ اکو سسٹمز وہ غیر بدل پذیر قومی و عالمگیر اثاثے ہیں جن کا کوئی مصنوعی نعم البدل ممکن ہی نہیں ہے۔ انسان اپنے "ٹیکنالوجیکل ہیبرس” یعنی اس جھوٹے وہم کا شکار ہو چکا ہے کہ شاید اس کی جدید ٹیکنالوجی قدرتی پانی اور قدرتی ہوا کا متبادل بنا لے گی، مگر سچائی یہ ہے کہ جب ہم "کلمن کے ماحولیاتی المیے” کے تحت قدرتی خزانوں کو تجارتی نفع کے لیے نچوڑتے ہیں، تو نتیجے میں فطرت اپنا انتقام لیتی ہے۔ جنگلات کی اندھا دھند کٹائی نے زمین کے پھیپھڑوں کو مسمار کر دیا ہے، خام تیل اور قدرتی گیس کا لامتناہی استعمال فضا کو کاربن کے ایسے تندور میں بدل چکا ہے جہاں موسموں کا پرانا نظام درہم برہم ہو چکا ہے، اور زراعت کی تباہی نے کرۂ ارض کو ایک عالمی قحط کی طرف دھکیل دیا ہے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ ایک ہی نسل نے اپنے وقتی آرام کی خاطر اپنے ہی بچوں کے پینے کے پانی، ان کے ایندھن اور ان کے سائے کو اپنے معاشی نعروں کی بھیٹ چڑھا دیا۔ اگر ہم اس عالمی اور دردناک ماحولیاتی زوال کی تطبیق اپنے علاقائی ماحول بالخصوص پاکستان کی دھرتی پر کریں، تو یہاں یہ المیہ صرف سائنسی اعداد و شمار کا کھیل نہیں رہتا بلکہ ایک زندہ قومی سانحے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ پاکستان اس وقت دنیا کی پانچویں سب سے بڑی آبادی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، جہاں ہر روز ہزاروں نئے وجود اس دنیا میں قدم رکھتے ہیں لیکن ان کے لیے نہ صاف پانی بچا ہے اور نہ ہی سانس لینے کو پاک ہوا موجود ہے۔ ہماری زراعت، جو اس دھرتی پر ہزاروں سال سے انسانی زندگی کی ضمانت تھی، زیرِ زمین پانی کی بے دردی سے نچوڑے جانے، جنگلات کی کٹائی اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے پھیلتے ہوئے کنکریٹ کے جنگلوں کی وجہ سے اپنے آخری تزویراتی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ہم اپنے ہاتھوں سے اپنے سبزہ زاروں کو نگل رہے ہیں اور اپنی نئی نسل کو ایک ایسی بنجر، پیاسی اور مفلوج دھرتی سلیم کر رہے ہیں جہاں ان کے پاس زندگی کی رمق باقی رکھنے کے لیے بنیادی ایندھن تک میسر نہیں ہوگا۔ کیا ہمارے پاس اپنے بچوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس بے رحمی اور خیانت کا جواب دینے کے لیے کوئی ایک بھی اخلاقی دلیل موجود ہے؟اس ہولناک اور لرزہ خیز تباہی کے دہانے سے لوٹنے کا واحد طریقہ اب یہی بچا ہے کہ انسانیت اپنی اس بے حسی، جذباتی نعروں اور عارضی سیاسی معاہداں کی منافقت سے باہر نکل کر پائیدار ترقیاتی اہداف کو اپنی باقی ماندہ زندگی کا مقدس ترین اخلاقی اور سائنسی فریم ورک بنائے۔ ہمیں عالمی اور قومی پالیسی سازوں کی سطح پر ایندھن، گیس، پانی اور کاغذ کے روزمرہ استعمال کا ایک انتہائی سخت اور کڑا ساختیاتی کوٹہ نافذ کرنا ہوگا تاکہ ہم کرۂ ارض کی پائیداری کو آئندہ کی نسلوں کے لیے محفوظ کر سکیں۔ خام تیل، کوئلے اور زہریلی توانائی کے پرانے ذرائع کو یکسر خیرباد کہہ کر شمسی توانائی، ہوا اور گرین ٹیکنالوجیز کی طرف ہنگامی اور انقلابی پیش قدمی ہی وہ واحد راستہ ہے جو فضا میں زہر کے بہاؤ کو روک سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، آبادی کے بے لگام دھماکے کو قومی سلامتی کا سب سے بڑا چیلنج تسلیم کرتے ہوئے اپنے نوجوانوں کو اخلاقی تربیت، جدید گرین سکلز اور سائنسی شعور دینا ہوگا تاکہ وہ معاشی بوجھ بننے کے بجائے دھرتی کے محافظ بن سکیں۔ یہ سدا بہار زمین، اس کے نایاب جنگلات، اس کے شفاف بہتے دریا، اور اس کے اندر چھپے ہوئے معاشی و ایندھن کے خزانے ہماری ملکیت یا تجارتی منافع کا ذریعہ نہیں ہیں، بلکہ یہ اس انسانیت کی مقدس ترین امانت ہیں جو ابھی اس دنیا میں قدم رکھنے والی ہے۔ اگر آج کے انسان نے، آج کے مفکرین نے، اور آج کے کالم نگاروں نے مل کر اس امانت کی حفاظت کے لیے اپنا ضمیر نہ جگایا، تو تاریخ کا بے رحم قلم ہمیں ایک ایسی ظالم، خائن اور خودغرض نسل کے طور پر رقم کرے گا جس نے اپنے عارضی فائدے اور ہوس کی خاطر اپنے ہی بچوں کے آخری مسکن کو اپنے ہاتھوں سے راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اب بھی جاگ جائیں، اس دھرتی کا احترام کریں اور اس کے ایک ایک قطرے اور ایک ایک درخت کو آئندہ نسلوں کی امانت سمجھ کر محفوظ کریں، قبل اس کے کہ قدرتی وسائل کا یہ آخری چراغ ہمیشہ کے لیے گل ہو جائے اور ہمارے پاس سوائے ابدی اندھیرے اور پچھتاوے کے کچھ باقی نہ رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed