تحریک تحفظ آئین کے اخونزادہ حسین کی راہداری ضمانت منظور

پشاور ہائیکورٹ نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی ترجمان اخونزادہ حسین احمد کی راہدری ضمانت کیلئے دائر درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں 13اگست تک متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کردی ۔رٹ درخواست پر سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات میانخیل پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ درخواست گزار کے وکیل اجمل خٹک ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ درخواست گزار اپوزیشن جماعت کے تحریک آئین تحفظ پاکستان کے مرکزی ترجمان ہیں جس نے آزاد کشمیر کے موجودہ حالات کے حوالے سے اسلام آباد میں احتجاج کیا۔احتجاج کرنے پر درخواست گزار کے خلاف اسلام آباد میں مقدمہ درج کیا گیا۔درخواست گزار کے خلاف درج مقدمے میں انسداد دہشتگردی کے دفعات بھی لگائے گئے ہیں وہ عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں لیکن گرفتاری کا خدشہ ہیں عدالت نے راہداری ضمانت کے لئے دائر درخواست منظور کردی اور اسے 13 اگست تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی ترجمان اخونزادہ حسین احمد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اسلام آباد میں آزاد کشمیر کے عوام کے لئے پرامن احتجاج کیا دو مہینے سے آزاد کشمیر میں حالات خراب ہے اور لوگوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے یہ ایک پرامن احتجاج تھا ہزاروں لوگوں نے اس میں شرکت کی تا ہم اسلام آباد انتظامیہ نے ہمارے خلاف بوگس ایف آئی آر درج کرائی جس میں اے ٹی سی کے دفعات شامل کئے،سنیٹر مشتاق احمد خان سمیت تقریبا 180 افراد کو انتظامیہ نے حراست میں لیا ۔پرامن احتجاج پر کسی کے خلاف مقدمہ درج کرنا خود خلاف قانون ہے پشاور ہائیکورٹ ہم آئے ہیں عدالت نے راہداری ضمانت منظور کرلی ۔انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے لئے آواز اٹھاتے رہیں گے۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا حکم دیا ہے کئی ماہ ہوگئے پی ٹی آئی رہنما کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرنے دیا جارہا یہ حکومت خود آئین و قانون اور عدالتوں کے احکامات نہیں مارہی ہم عوام کے حق کی بات کرے گے، عوام کے لئے آواز اٹھائے گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed