پشاور ہائیکورٹ نے سنٹرل جیل میں نصب موبائل جیمرز کے باعث ہائیکورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹس اور ملحقہ علاقوں میں موبائل سگنلز کی بندش کے معاملے پر سیکرٹری محکمہ داخلہ ( ہوم ) کو طلب کر لیا۔کیس کی سماعت جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ سیکرٹری ہوم عدالت میں پیش ہوں، پھر اس معاملے کو تفصیل سے سنا جائے گا۔صدر پشاور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن امین الرحمن یوسفزئی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ سنٹرل جیل میں نصب جیمرز کی وجہ سے ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس میں موبائل سگنلز کام نہیں کرتے، جس کے باعث وکلا اور سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریبا نو ماہ قبل متعلقہ حکام نے عدالت میں مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔جسٹس وقار احمد نے کہا کہ عدالت نے اس سے قبل نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی)سے رپورٹ طلب کی تھی اور ایڈووکیٹ جنرل آفس کو بھی جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔امین الرحمن یوسفزئی نے بتایا کہ این آر ٹی سی نے عدالت کو یقین دلایا تھا کہ چھوٹے بوسٹرز نصب کیے جائیں گے تاکہ موبائل سگنلز بہتر ہو سکیں، مگر ابھی تک نہ این آر ٹی سی اور نہ ہی ہوم ڈیپارٹمنٹ نے رپورٹ یا جواب جمع کرایا ہے۔صدر پشاور بار ایسوسی ایشن قیصر زمان ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ یہ مسئلہ صرف ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹس تک محدود نہیں بلکہ اردگرد کے رہائشی بھی موبائل سگنلز کی بندش سے متاثر ہو رہے ہیں۔درخواست گزار کے وکیل علی گوہر درانی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ روزانہ شام چار بجے کے بعد موبائل سگنلز بحال ہو جاتے ہیں، جب وکلا عدالتوں سے جا چکے ہوتے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے جیمرز صرف وکلا کے لیے لگائے گئے ہوں۔اس پر جسٹس وقار احمد نے ریمارکس دیے کہ اگر شام چار بجے کے بعد سگنلز درست ہو جاتے ہیں تو اسی وقت جیمرز فعال کیے جائیں، کیونکہ اس دوران ان کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر جیمرز کی فریکوئنسی کم کر دی جائے تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے







