انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے ملک سعد شہید پولیس لائن پشاور کا دورہ کیا، جہاں سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے ان کا استقبال کیا۔دورے کے موقع پر آئی جی خیبر پختونخوا نے ملک سعد شہید پولیس لائن میں پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود، بہتر طرزِ زندگی اور معیاری خوراک کی فراہمی کے لیے تاریخ میں پہلی مرتبہ قائم کیے گئے ہر قسم کی سہولیات سے آراستہ پولیس میس ( Cop’s Cafe ) کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ آئی جی پی نے میس کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے وہاں فراہم کی جانے والی سہولیات، خوراک کے معیار، مینیو، صفائی اور مجموعی انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید احمد نے آئی جی پی کو میس کے قیام کے مقاصد، معیاری خوراک کی تیاری، کچن کے انتظامات، صفائی کے انتظامات، انتظامی امور اور پولیس اہلکاروں کی سہولت کیلئے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔آئی جی خیبر پختونخوا نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا کھایا اور فراہم کی جانے والی خوراک کے معیار، صفائی اور دیگر سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے آئی جی پی ذوالفقار حمید نے کہا کہ پولیس اہلکار محکمہ پولیس کا قیمتی سرمایہ ہیں، جن کی فلاح و بہبود، صحت، بہتر رہائشی اور معیاری خوراک کی فراہمی محکمہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک صحت مند، مطمئن اور باحوصلہ پولیس فورس ہی عوام کو مؤثر، بروقت اور بہترین خدمات فراہم کر سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر قسم کی سہولیات سے آراستہ اور معیاری پولیس میس کا قیام نہ صرف اہلکاروں کو صاف، متوازن اور معیاری خوراک کی فراہمی کو یقینی بنائے گا بلکہ ان کی جسمانی نشوونما، پیشہ ورانہ استعدادکار اور مورال میں بھی نمایاں بہتری لائے گا اور کہا کہ ایسے فلاحی اقدامات فورس میں نظم و ضبط اور خدمت کے جذبے کو مزید فروغ کا سبب بنتے ہیں۔آئی جی پی نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس اہلکاروں کی ویلفیئر، جدید انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، عوام دوست پولیسنگ اور پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ شہریوں کو ایک موثر، بااعتماد اور جدید پولیسنگ نظام میسر آ سکے۔انہوں نے پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے کیے گئے اس مثالی اقدام پر سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے، جو فورس کے مورال اور عوامی خدمت کے معیار کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔







