کیکر،قدرت کا ایک مضبوط، فیاض اور ہمہ گیر درخت

تحریر: حمید مروت

کیکر (سندھ میں ببول) برصغیر کے قدیم، مفید اور معاشی لحاظ سے اہم درختوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا موجودہ اور مستند سائنسی نام Vachellia nilotica ہے۔ ماضی میں اسے Acacia nilotica اور اس سے بھی پہلے Acacia arabica کے نام سے جانا جاتا تھا، اسی لیے آج بھی پرانی نباتاتی، جنگلاتی اور زرعی کتابوں میں یہ دونوں نام بکثرت ملتے ہیں۔ جدید نباتاتی درجہ بندی کے بعد اسے جنس Vachellia میں منتقل کر دیا گیا، تاہم عام استعمال میں Acacia nilotica اب بھی زیادہ معروف ہے۔ یہ درخت خاندان Fabaceae (Leguminosae) سے تعلق رکھتا ہے اور افریقہ، مشرقِ وسطی اور برصغیر پاک و ہند کا مقامی درخت ہے۔
پاکستان میں کیکر پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان کے گرم، نیم خشک اور دریائی علاقوں میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے۔ اردو، پنجابی اور پشتو میں اسے کیکر جبکہ سندھ میں ببول کہا جاتا ہے۔ دریائے سندھ کے کناروں، سیلابی میدانوں اور نہری علاقوں میں اس کے قدرتی جنگلات صدیوں سے موجود ہیں، جہاں یہ ماحول، زراعت، مویشی پالنے اور دیہی معیشت کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ پاکستان میں اس کی سب سے عام قسم Vachellia nilotica subsp. indica ہے۔
کیکر عموما 5 سے 20 میٹر بلند ہوتا ہے۔ اس کی گھنی، گول اور پھیلی ہوئی چھتری دور سے ہی پہچانی جاتی ہے۔ اس کی چھال گہرے بھورے یا تقریبا سیاہ رنگ کی، موٹی، کھردری اور شگاف دار ہوتی ہے، جبکہ اس سے سرخی مائل گوند خارج ہوتی ہے۔ نوجوان درختوں پر لمبے، سیدھے اور نہایت نوکیلے کانٹے ہوتے ہیں، اگرچہ عمر بڑھنے کے ساتھ کانٹے نسبتا کم ہو سکتے ہیں۔ اس کے باریک دوہری پنکھ نما پتے، خوشبودار سنہری زرد گول پھول اور دانوں سے بھری ہوئی موٹی، قدرے مڑی ہوئی پھلیاں اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
کیکر کا درخت بے شمار معاشی، طبی اور ماحولیاتی فوائد کا حامل ہے۔ اس کی پھلیاں، پتے اور نرم شاخیں بکریوں، بھیڑوں اور اونٹوں کے لیے بہترین چارہ ہیں۔ خصوصا خشک اور نیم صحرائی علاقوں میں، جہاں سبز چارہ کم میسر ہوتا ہے، کیکر کی پھلیاں مویشیوں کی اہم خوراک بن جاتی ہیں۔
اس کی نرم ٹہنیاں صدیوں سے مسواک کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہیں۔ اس کی چھال، گوند، پتے اور پھلیاں روایتی طب میں گلے کی سوزش، کھانسی، اسہال، بواسیر، زخموں اور دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ تنے یا شاخوں پر زخم آنے سے خارج ہونے والی گوندِ کیکر غذائی اشیا، روایتی مٹھائیوں، دیسی ٹانکوں اور جڑی بوٹیوں پر مشتمل ادویات میں استعمال ہوتی ہے، جبکہ بعض ادویات اور مصنوعات میں اسے قدرتی بائنڈر کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
کیکر کی چھال میں ٹینن (Tannins) کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، اسی وجہ سے یہ چمڑے کی دباغت (Leather Tanning) کے لیے ایک نہایت اہم قدرتی خام مال سمجھی جاتی ہے۔ سندھ میں روایتی طور پر اس کی چھال مقامی چمڑا سازی کی صنعت میں استعمال ہوتی رہی ہے اور اس نے دیہی معیشت میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
کیکر کی لکڑی نہایت سخت، بھاری اور دیرپا ہوتی ہے۔ اس سے زرعی آلات، اوزاروں کے دستے، مضبوط فرنیچر، باڑ، ایندھن اور اعلی معیار کا چارکول تیار کیا جاتا ہے۔
سندھ میں ماضی میں کیکر کی باقاعدہ تجارتی کاشت کی جاتی تھی۔ کیکر کے ان منظم قطعات کو مقامی زبان میں "اوڑی”(Hurri) کہا جاتا ہے۔ تقریبا ہر چھ سال بعد درخت کاٹ کر اس کی سیدھی اور مضبوط نوخیز شاخیں حاصل کی جاتی تھیں، جو بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں سرنگوں کی چھتوں کو سہارا دینے (Mine Props) کے طور پر استعمال ہوتی تھیں۔ فولادی سہاروں کے عام ہونے سے پہلے یہ لکڑیاں کان کنی کی صنعت کا ایک لازمی حصہ تھیں اور سندھ کے دیہی علاقوں کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ بھی سمجھی جاتی تھیں۔
ماحولیاتی اعتبار سے کیکر ایک نہایت اہم درخت ہے۔ چونکہ یہ نائٹروجن کو مٹی میں شامل کرنے والی (Nitrogen-fixing) پھلی دار انواع میں شامل ہے، اس لیے زمین کی زرخیزی بڑھانے، مٹی کے کٹا کو روکنے، بنجر اور صحرائی علاقوں کی بحالی، چراگاہوں کی بہتری اور کان کنی سے متاثرہ زمینوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے گھنے درخت پرندوں کو محفوظ آشیانے فراہم کرتے ہیں، جبکہ اس کے خوشبودار پھول شہد کی مکھیوں کے لیے بہترین غذا ہیں۔


اگرچہ کیکر پاکستان کے چاروں صوبوں میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے، لیکن یہ شدید سردی اور برفباری برداشت نہیں کر سکتا۔ جہاں موسمِ سرما میں درجہ حرارت نقط انجماد (صفر ڈگری سینٹی گریڈ) سے نیچے چلا جائے، وہاں اس کے نوخیز پودے عموما مر جاتے ہیں، جبکہ بالغ درختوں کی شاخیں بھی سوکھ سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ درخت گرم، خشک اور نیم خشک علاقوں میں بہترین نشوونما پاتا ہے، جبکہ برفانی اور انتہائی سرد علاقوں میں اس کی قدرتی افزائش محدود رہتی ہے۔
کیکر صرف ایک مفید درخت ہی نہیں بلکہ برصغیر کی تہذیب، دیہی معیشت اور ثقافت کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔ اس نے صدیوں تک انسانوں اور مویشیوں کو سایہ، ایندھن، چارہ، لکڑی، گوند، دوا اور روزگار فراہم کیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی دیہی علاقوں میں کیکر کو محض ایک درخت نہیں بلکہ ایک وفادار ساتھی کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔

وطن کی یاد اور کیکر کا درخت

کہا جاتا ہے کہ پہلی یا دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانوی ہند کی فوج میں شامل ایک سندھی سپاہی محاذ سے دور کسی غیر ملکی سرزمین، غالبا مشرقِ وسطی کے کسی صحرا کے کسی علاقے میں، ایک تنہا کیکر کے درخت کے پاس پہنچا۔ اپنے وطن کے اس مانوس درخت کو دیکھ کر اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے درخت کو گلے لگا لیا اور روتے ہوئے کہا:
"میں تو جنگ کی وجہ سے یہاں آ گیا ہوں، مگر تجھے یہاں کون لے آیا؟”


اس کا پیغام نہایت گہرا ہے۔ انسان جب اپنے وطن سے دور ہوتا ہے تو اپنی سرزمین کی ہر چیزدرخت، مٹی، خوشبو، پرندے، کھیت، راستے اور اپنی مادری زباناس کے لیے بے حد عزیز ہو جاتی ہے۔ اجنبی دیس میں اگر اپنے وطن کی کوئی معمولی سی نشانی بھی نظر آ جائے تو دل بے اختیار اپنے گھر کی طرف کھنچ جاتا ہے۔ وطن سے محبت ایک فطری انسانی جذبہ ہے، اور اپنے وطن کی قدر و قیمت کا حقیقی احساس اکثر اس سے دور رہ کر ہی ہوتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed