پشاور ہائیکورٹ نے نتھیاگلی اور مشک پوری پارک میں نئے ٹریک کی تعمیر روکنے کے لئے دائر درخواست خارج کردی اور کامیابی بولی لگانے والے کمپنی کو کام کرنے کی اجازت دے دی۔رٹ درخواست پر سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ۔اس موقع پر عدالت میں درخواست گزار کے وکیل جبکہ ٹریک پر کام کرنے والے کمپنی کے وکیل بشیر وزیر ایڈوکیٹ پیش ہوئے۔ وکیل درخواست گزار نے عدالت کوبتایا کہ مشک پوری، نتھیاگلی پارک میں نئے ٹریک کے لئے ٹھیکہ غیرقانونی طور پر دیا گیا ہے اور ایسے اقدامات سے وہاں کے ماحول پر برے اثرات پڑیں گے اور ماحولیاتی آلودگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے لہذا اس کو روکا جائے اور اس ٹھیکے کو کالعدم قراردیا جائے۔اس دوران عدالت میں جبکہ مذکورہ کمپنی کے وکیل بشیر وزیر نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے نتھیاگلی پارک، مشک پوری پارک اور دیگر پارکس کی تزئین و آرائش کے لئے ٹینڈر جاری کیا، نجی کمپنی (گیلین )نے ایپلائی کیا اور کامیاب بولی لگائی اور اسکے کلائنٹ کو سب سے زیادہ 17 ملین سالانہ پر ٹھیکہ دیا گیا، نتھیاگلی پارک، مشک پوری پارک اور دیگر کی تزئین و آرائش کی جائے گی،کوئی نیا ٹریک نہیں بنایا جارہا بلکہ پرانے ٹریک کی خوبصورتی کے لئے اقدامات کئے جائے گے، ماحولیات پر کوئی برا اثر نہیں پڑے گا، پرانے ٹریک اور ان کی فیس کا تعین کیا جائے گا،عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست خارج کردی اور کامیابی بولی لگانے والے کمپنی کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔







