غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج کی سفاکیت جاری رکھتے ہوئے غزہ میں ڈرون حملے میں دو افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے جبکہ اسرائیل کے طبی امداد تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے پر 4 ماہ کا فلسطینی بچہ شہید ہوگیا۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے مشرقی علاقے السمر میں ڈرون حملے کئے، غزہ کی ایمبولینس اور ہنگامی امدادی سروس کے ایک ذرائع نے بتایا کہ حملہ غزہ شہر کے مشرق میں واقع علاقے السمر میں کیا گیا۔زخمی ہونے والوں کو طبی امداد کے لئے قریبی ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے، جہاں پر متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ میں مسلسل اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی جانب سے طبی امداد تک رسائی میں رکاوٹ کے باعث چار ماہ کا فلسطینی بچہ جاں بحق ہو گیا۔فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق مقامی عہدیداروں نے بتایا کہ یہ افسوسناک واقعہ رملہ کے مغرب میں واقع گائو ں دیر عمار کے داخلی راستے پر قائم اسرائیلی فوجی چوکی پر پیش آیا جہاں فوجیوں نے بچے کو فوری طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیے جانے میں رکاوٹ ڈالی۔اسرائیلی فوجیوں نے علاقے کے مکینوں اور وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں پر آنسو گیس کے شیل بھی فائر کئے جس کے نتیجے میں بیمار شیرخوار کو بروقت طبی سہولت فراہم نہ کی جا سکی اور وہ دم توڑ گیا۔







