جمعیت علماء اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کشمیر معاملے پر مصالحتی کردار ادا کرنے کا اعلان، انہوں نے اس حوالے سے کہا ہے کہ کشمیر ایکشن کمیٹی کے اکابرین کی درخواست پر کشمیر اور پاکستان کے بہترین مفاد میں مصالحتی کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔قائد جمیعت کے مطابق ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے انہیں کچھ وقت اور مہلت درکار ہے تاکہ وہ حکومت سے رابطہ کر سکیں اور باقاعدہ مذاکرات کے لیے پیش رفت ممکن ہو سکے۔انہوں نے کشمیر ایکشن کمیٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ فی الحال کسی نئے لائح عمل کی طرف نہ جائیں تاکہ مذاکرات کے لیے ماحول سازگار بنایا جا سکے اور مسئلے کے پرامن حل کی طرف پیش رفت ممکن ہو۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہے کہ فریقین کے درمیان بات چیت شروع ہو، مسئلے کے حل کے لیے راستہ نکالا جائے اور کشیدگی کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت کشمیر کے مسئلے پر سیاسی سطح پر ایک نئی کوشش کی عکاسی کرتی ہے، جس کا مقصد فریقین کے درمیان بات چیت کے دروازے کھولنا ہے۔







