پشاورہائیکورٹ کے سنگل رکنی بنچ نے ججز تبادلوں کیخلاف دائر رٹ پٹیشن پر قرار دیا کہ اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ڈویژن بنچ کرے گا۔عدالت نے رٹ کو دو رکنی بنچ کے سامنے لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ۔ کیس کی سماعت جسٹس سید ارشدعلی پر مشتمل بنچ نے کی۔سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار وکیل سلیمان خان نے بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کو پشاور اور دیگر 2ججز کو لاہور اور سندھ ہائیکورٹس ٹرانسفر کیا گیا جبکہ جوڈیشل کمیشن نے کچھ ججز کے تبادلے ڈراپ کردیئے۔جوڈیشل کمیشن کا یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 2 اے اور 175(3) کے خلاف ہے کیونکہ ججز کی مرضی کے بغیر تبادلہ عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے۔ ایگزیکٹیو کے ہاتھوں ججز کے تبادلے عدالتی خودمختاری اور بنیادی حقوق کے بھی خلاف ہے۔انہوں نے بتایاکہ ججز تبادلوں کا 28 اپریل 2026 کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔ عدالت نے تحریری حکم نامہ میں قراردیاکہ رجسٹرار آفس نے اس درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا ہے۔رٹ میں درخواست گزار نے متعلقہ آرڈر کو آئین، عدلیہ کی آزادی و دیگر متعلقہ اصولوں پر چیلنج کیاہے،یہ بہتر ہوگا کہ اس رٹ کودورکنی بنچ سنے۔







