بجٹ2026-27کی تیاریاں جاری ہیں اور اسی سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے سات رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے ، جس میں خزانہ، اقتصادی امور، ترقی و منصوبہ بندی اورقانون کے وزرا سمیت دیگر حکام شامل ہیں۔ وزیراعظم آفس نے کمیٹی کے ٹرمز آف ریفرنس بھی طے کر دیئے ہیں ، کمیٹی میں وفاقی وزیر قانون، چیف ٹیکینکل ایڈوائزر مشرف رسول بھی نمائندے مقرر کئے گئے جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری بجٹ وزارت خزانہ بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے ۔کمیٹی کو بجٹ سے متعلق اہم امور کا جامع جائزہ لے کر سفارشات وزیراعظم کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تجارت،پاور،نجکاری اور دیگر وزارتوں کی مالی ضروریات کا جائزہ لیا جائے گا، مالی سال 2026-27 کیلئے پی ایس ڈی پی کا تعین بھی ٹی او آرز میں شامل ہے۔کمیٹی میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے72 ارب روپے ونڈ فال منافع کی واپسی پر غور کیا جائے گا ، پاور ڈویژن سے متعلق بین الاقوامی مقدمات اور مالی تقاضوں کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ بھی کیا گیاہے ۔ آمدن پیدا کرنے والی وزارتوں کو ترقیاتی اخراجات کیلئے آمدن کا حصہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے،کلائمیٹ سپورٹ لیوی فنڈز سے گرین انیشی ایٹو پروگرام کے سٹارٹ اپس کی معاونت کا جائزہ شامل ہے۔کابینہ کے رائٹ سائزنگ فیصلوں پر عملدرآمد رپورٹ اور اخراجات میں کمی کیلئے بھی تجاویز طلب کر لی گئیں ۔







