عبوری ضمانت کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ درخواست گزار عبوری ضمانت کا فائدہ کسی احتجاج میں نہیں اٹھائیں گے، تفصیلات کے مطابق وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت پاکستان تحریک انصاف کے کئی اراکین اسمبلی اور رہنماوں کو پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی حفاظتی ضمانت کے حوالے سے وضاحت کی گئی ہے کہ ان کی متعلقہ عدالت میں پیشی کو آسان بنانے کیلئے عبوری ضمانت دی گئی ہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ حفاظتی ضمانت کو کسی احتجاج یا ریاست مخالف سرگرمی میں حصہ لینے کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ہائیکورٹ نے چیف کمشنر اسلام آباد کو بطور فوکل پرسن قراردیتے ہوئے تمام درخواست گزاروں کوہدایت کی ہے کہ وہ چیف کمشنراسلام آباد کودرخواست دیکر اپنے مقدمات سے متعلق تفصیلات حاصل کرسکتے ہیں۔عدالت عالیہ کے جسٹس سید ارشد علی اور محمد فہیم ولی پر مشتمل دورکنی بنچ نے پی ٹی آئی رہنماوں کی حفاظتی ضمانت کیلئے دائردرخواستوں کی سماعت کیلئے لارجربنچ تشکیل دینے کیلئے چیف جسٹس کو ارسال کردیں اورلارجربنچ کی تشکیل کیلئے چیف کمشنراسلام آباد کی درخواست منظورکرلی، بنچ نے یہ ہدایات سابق سپیکر قومی اسمبلی اور موجودہ رکن قومی اسمبلی اسد قیصر سمیت دیگر درخواست گزاروں کی رٹ پٹیشنز پر جاری کئے۔رٹ میں انہوں نے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات اور حفاظتی ضمانت کی استدعا کی تھی، عدالت نے اس ضمن میں جاری حکم نامے میں وزیر اعلی محمد سہیل آفریدی، سابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور، رکن قومی اسمبلی شیخ وقاص اکرم، نسیم شاہ، فیصل امین خان، شاندانہ گلزار، نور الحق قادری، یوسف علی،سینیٹر خرم زیشان اور کئی دیگر درخواست گزاروں کی پیٹیشنر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ یہ عبوری ضمانت درخواست گزاروں کی پیشی آسان بنانے کے لئے ہے اور کسی احتجاج میں اس کا فائدہ نہیں اٹھائیں گے، بینچ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ مظاہرے، ریاست مخالف سرگرمی یا اسی نوعیت کے کسی بھی واقعے میں شرکت کو ممکن بنانے، جواز دینے یا اس میں سہولت فراہم کرنے کے لئے اس ریلیف کا سہارا نہیں لیا جائے گا۔اس معاملے میں وفاقی پراسیکیوٹر جنرل کے ساتھ ساتھ دیگر وکلاکی طرف سے نشاندہی کردہ کچھ اہم مسائل شامل ہیں







