خیبرپختونخوا کے سرکاری اداروں کے بجلی بلوں میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جہاں سرکاری اداروں کے بجلی اخراجات 14 ارب سے متجاوز ہو چکے ہیں۔بجلی بلوں میں غلط ریڈنگ اور اضافی یونٹس کے اندراج کے باعث قومی خزانے پر بھاری مالی بوجھ پڑنے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا نے تمام سرکاری محکموں کے بجلی بلوں کی جانچ پڑتال کا حکم دے دیا ہے۔محکمہ خزانہ نے اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو مراسلہ ارسال کرتے ہوئے تمام ڈسٹرکٹ ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران (ڈی ڈی اوز)کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی سے پہلے ان کی مکمل جانچ اور تصدیق یقینی بنائی جائے۔سرکاری بجلی بلوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی ایک حیران کن مثال ہری پور سے سامنے آئی ہے، جہاں ایک سرکاری دفتر کا بجلی بل 3 کروڑ 27 لاکھ روپے سے کم ہوکر صرف 5 ہزار 993 روپے رہ گیا۔اس غیر معمولی فرق نے سرکاری اداروں کے بجلی بلوں کی تیاری، میٹر ریڈنگ اور بلوں کی ادائیگی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔یہ معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی سے پہلے ان کی درستگی کی جانچ کتنی ضروری ہے، تاکہ غلط ریڈنگ یا اضافی یونٹس کے باعث سرکاری خزانے کو نقصان نہ پہنچے۔دستیاب معلومات کے مطابق خیبرپختونخوا کے سرکاری اداروں کے بجلی اخراجات 14 ارب روپے سے متجاوز ہو چکے ہیں۔ بلوں میں غلط میٹر ریڈنگ اور اضافی یونٹس کے اندراج سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا انکشاف ہوا ہے۔اس صورتحال کے بعد محکمہ خزانہ نے بجلی کے اخراجات کی جانچ پڑتال اور بلوں کی ادائیگی کے نظام کو مزید مثر بنانے کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں۔







