پاکستان تحریک انصاف کے سابق ترجمان اور سینئر قانون دان معظم بٹ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے امریکہ کے ساتھ متوازن، مضبوط اور دیرپا تعلقات کا قیام ناگزیر ہے، کیونکہ پاک امریکہ تعلقات تاریخی اہمیت کے حامل ہیں اور عالمی سیاست میں دونوں ممالک کے تعلقات ہمیشہ اہمیت کے حامل رہے ہیں۔اپنے ایک بیان میں معظم بٹ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قیام کے بعد امریکہ نے ابتدائی دور ہی سے پاکستان کے ساتھ سفارتی روابط قائم کیے اور پاکستانی فوج کی تربیت، وسائل کی فراہمی اور دفاعی شعبے میں تعاون سمیت مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکہ پاکستان کے لیے ماضی میں بھی اہم تھا، آج بھی ہے اور مستقبل میں بھی اس کی اہمیت برقرار رہے گی۔انہوں نے کہا کہ امریکی سیاست میں تبدیلیوں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو انتخابی شکست کے بعد امریکی سفارت کاری کا کردار مزید اہم ہو سکتا ہے۔ ماضی میں امریکی صدور نے موثر سفارت کاری کے ذریعے عالمی سطح پر امریکہ کا ایک نمایاں مقام بنایا، جبکہ سابق صدر باراک اوباما کی خارجہ پالیسی بھی اس حوالے سے ایک مثال ہے۔ تاہم ٹرمپ کے دور میں سابقہ سفارتی روایات اور عالمی توازن کو شدید دھچکا پہنچا۔معظم بٹ کے مطابق پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں عالمی سیاسی تبدیلیوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیں، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان نئی امریکی قیادت، بالخصوص ڈیموکریٹس کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے تعلقات برقرار رکھنے میں کامیاب ہوگا یا نہیں۔ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے مشکل حالات میں بہادری، استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے، جسے عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اپنے دفاعی معاہدوں اور عالمی شراکت داریوں کو منظم، مثر اور متوازن انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قیادت کو بدلتے عالمی حالات کے تناظر میں دانشمندانہ فیصلے کرتے ہوئے قومی مفادات کو ہر صورت مقدم رکھنا چاہیے۔







