پیوٹن کا ایران جنگ ختم کرانے میں مدد کا اعلان

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس ایران میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا اور اس سلسلے میں تہران کی بھرپور مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

روسی میڈیا کے مطابق روسی صدر نے یہ بات ترکمانستان میں ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان سے ملاقات کے دوران کہی۔ پیوٹن کا کہنا تھا کہ روس کے نزدیک یہ تنازع ایران کی کسی غلطی کے بغیر شروع ہوا، جبکہ ایران جنگ ختم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔

ملاقات کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ جنگ کے باوجود ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ بات چیت سے پیچھے نہیں ہٹے گا، تاہم ہر بار مذاکرات کے دوران امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے کیے جاتے ہیں۔

ایرانی صدر نے بتایا کہ تہران اپنی تجاویز پیش کر چکا ہے، جبکہ واشنگٹن نے بھی نئی تجاویز دی ہیں۔ ایران نے ان تجاویز میں ضروری ترامیم کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجاویز کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد موجودہ ثالثوں کے ذریعے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر انہیں یکجا کرنا ہوگا۔

مسعود پزشکیان نے علاقائی معاملات اور اقوام متحدہ میں روس کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماسکو نے یک طرفہ اقدامات کے رجحان کا مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی مزید تیزی سے آگے بڑھیں گے۔

ایرانی صدر کے مطابق موجودہ حالات تہران اور ماسکو کو باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے، تاہم اس بات کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ ایرانی عوام کے حقوق کا بین الاقوامی قانون کے تحت احترام کیا جائے۔

ملاقات کے دوران پزشکیان نے بتایا کہ ایران اور امریکا نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے مقصد سے نئی تجاویز کا تبادلہ بھی کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں کی یہ ملاقات دولتِ مشترکہ کی آزاد ریاستوں (سی آئی ایس) کے سربراہی اجلاس اور بحیرۂ کیسپیئن سے متعلق ماحولیاتی سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوئی۔

ملاقات میں روس اور ایران کے درمیان دو طرفہ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو وسعت دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ منصوبوں کو حتمی شکل دینے اور ان پر عمل درآمد تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان جامع تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed