امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ پینٹاگون نے ایران کے خلاف تقریباً تین روزہ شدید فوجی آپریشن کا منصوبہ تیار کرلیا ہے، جس کے تحت اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ اہداف میں ایران کے میزائل ذخائر، میزائل لانچ کرنے کی تنصیبات، ڈرونز کے ذخائر اور ان سے متعلق مراکز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اہم توانائی کی تنصیبات، پاسدارانِ انقلاب کے بعض کمانڈ مراکز اور دیگر فوجی مقامات بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر نیا حملہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس فیصلے کی وجہ ایران کے ساتھ جاری مثبت بات چیت کو قرار دیا ہے۔
ادھر خطے میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ تین امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعیناتی کی خبریں بھی زیرِ گردش ہیں۔







