پشاور ہائیکورٹ نے پشاور سے تعلق رکھنے والے ذہنی توازن سے محروم ایک پاکستانی شہری کی تورخم بارڈر کے راستے غیر قانونی طور پر افغانستان ملک بدری کے خلاف دائر درخواست پر ابتدائی سماعت کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور نادرا کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور دو ہفتوں کے اندر تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔عدالتِ عالیہ میں درخواست گزار کی جانب سے اعجاز احمد ایڈووکیٹ نے پیش ہو کر موقف اختیار کیا کہ پشاور کے علاقے لنڈی ارباب (رنگ روڈ) کا رہائشی کامران ولد مراد خان شدید ذہنی عارضے میں مبتلا ہے اور وہ پیدائشی پاکستانی شہری ہے جس کا شناختی کارڈ نادرا کے باضابطہ ڈیٹا بیس میں موجود ہے۔ وکیلِ صفائی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ متعلقہ حکام کی مجرمانہ غفلت اور بدانتظامی کے باعث کامران کا نام غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے پروگرام (آئی ایف آر پی) میں غلط طور پر شامل کیا گیا اور اسے ۲۰ جولائی کو زبردستی تورخم کے راستے افغانستان ڈیپورٹ کر دیا گیا۔درخواست میں مزید انکشاف کیا گیا کہ افغانستان پہنچنے کے بعد کامران نے کسی طرح اپنے اہل خانہ سے رابطہ قائم کیا اور بتایا کہ وہاں اسے ایک ہوٹل میں زبردستی مشقت اور کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس کے باعث اس کے اہل خانہ شدید ذہنی کرب کا شکار ہیں۔ وکیلِ صفائی نے عدالت عالیہ سے استدعا کی کہ شہری کی فوری پاکستان واپسی کے لیے سفارتی سطح پر ہنگامی اقدامات کا حکم دیا جائے، ملک بدری کا غیر قانونی اقدام کالعدم قرار دیا جائے اور ذمہ دار سرکاری اہلکاروں کے خلاف شفاف انکوائری کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔ عدالت نے دلائل سنتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ۲۶ اکتوبر تک ملتوی کر دی۔







