امریکی ریاست الاسکا میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد 15 سالہ ڈیرک پارکر کو کھلے سمندر میں الٹ جانے والی کشتی کے اوپر سے کرشماتی طور پر محفوظ بچا لیا گیا ہے۔ یہ نوجوان بغیر کچھ کھائے پیے تقریباً 62 گھنٹوں تک شدید سردی میں سمندر کے بیچوں بیچ پھنسا رہا۔
ڈیرک پارکر 4 ستمبر کو سینٹ لارنس آئی لینڈ کے قریب اپنے 35 سالہ بھائی اور 34 سالہ کزن کے ساتھ مچھلی کا شکار کرنے گیا تھا کہ اچانک ان کی کشتی الٹ گئی۔ اس حادثے کے نتیجے میں اس کا بھائی اور کزن دونوں ڈوب کر جان کی بازی ہار گئے۔
بچانے والے کوسٹ گارڈ کے بحری جہاز کے کپتان ایڈم وائٹ نے بتایا کہ بچے کے کزن کا پاؤں پھسل گیا تھا اور وہ امدادی ٹیم کے پہنچنے سے پہلے ہی ڈوب گیا تھا، جبکہ اس کا بھائی الٹ جانے والی کشتی کے نیچے ہی پھنس کر ہلاک ہو گیا۔ اپنے ساتھیوں کو کھونے کے بعد ڈیرک کسی طرح الٹی ہوئی کشتی کے اوپر چڑھنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
الاسکا اسٹیٹ ٹروپرز نے 6 ستمبر کی شب کوسٹ گارڈ کو بچوں کی گمشدگی کی اطلاع دی تھی۔ جس کے بعد 7 ستمبر کی صبح ساڑھے 10 بجے کوسٹ گارڈ کی ٹیم نے ڈیرک کو الٹی ہوئی کشتی پر بیٹھے ہوئے دیکھ کر ریسکیو کیا۔
کپتان ایڈم وائٹ کا کہنا تھا کہ اتنی سخت سردی میں بچے کا اتنے دن تک زندہ رہنا ایک حیران کن امر ہے۔ ڈیرک کو جب بچایا گیا تو وہ ہائپوتھرمیا (جسمانی درجہ حرارت انتہائی کم ہونے) کا شکار ہو چکا تھا، جس کے بعد جہاز کے عملے نے اسے گرم کمبلوں میں لپیٹ کر طبی امداد فراہم کی۔







