پاکستان کرکٹ ٹیم کی مسلسل زوال پذیر کارکردگی اور عالمی مقابلوں سمیت حالیہ سیریز میں پے در پے ناکامیاں کسی ایک کپتان، کوچ یا چند کھلاڑیوں کی ناقص فارم کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ ایک گہرے انتظامی و کرکٹنگ بحران کی عکاسی کرتی ہیں۔ آئرلینڈ، امریکا، بنگلادیش، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف مختلف فارمیٹس میں شکستوں نے ثابت کیا ہے کہ انتظامی ڈھانچے، سلیکشن پالیسی اور حکمت عملی میں بنیادی نقائص موجود ہیں۔
ملتان ٹیسٹ میں 556 رنز بنانے کے باوجود اننگز سے شکست ہو، بنگلادیش کے ہاتھوں ہوم گراؤنڈ پر مسلسل سیریز ہارنا ہو یا ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ اور چیمپئنز ٹرافی کے جلدی تمام ہونے والے سفر، تمام ناکامیوں کے پیچھے قلیل مدتی فیصلے اور غیر واضح سلیکشن کا معیار ہے۔ سینئر کھلاڑیوں کی نام نہاد شہرت کو موجودہ فارم پر ترجیح دینا اور نوجوان کھلاڑیوں کو واضح کردار یا مسلسل مواقع نہ دینا بھی اس زوال کا اہم سبب رہا ہے۔
گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی جیسے غیر ملکی کوچز کے جلد جدا ہونے سے لے کر آئے دن سلیکشن کمیٹیوں اور قیادت میں تبدیلیوں نے ٹیم کے تسلسل کو شدید متاثر کیا ہے۔ ماضی کے فاسٹ بولر وسیم اکرم نے بھی کرکٹ بورڈ کی مختصر المدت سوچ اور غیر یقینی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس تاریک منظرنامے میں نوجوان کھلاڑی رضا اللہ کی انگلینڈ کے خلاف جارحانہ اننگز جیسے اقدامات ایک روشن امید ہیں، بشرطیکہ نئے ٹیلنٹ کو باقاعدہ نظام کے تحت آگے لایا جائے۔ پاکستان کرکٹ کو محض چہرے بدلنے کے بجائے چار سے پانچ سالہ پائیدار پالیسی، میرٹ اور احتساب پر مبنی ایک مضبوط اور جامع نظام کی فوری ضرورت ہے۔







